ملفوظات (جلد 9) — Page 261
جس سے انسان بڑے بڑے مدارج حاصل کر سکتا ہے۔نریاں نمازاں اور دنیا کے لیے ٹکراں کچھ چیز نہیں۔مومن کو چاہیے کہ خدا کی قضا و قدر کے ساتھ شکوہ نہ کرے اور رضا بالقضا پر عمل کرنا سیکھے اور جو ایسا کرتا ہے میرے نزدیک وہی صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں میں سے ہے۔جان سے بڑھ کر اور تو کوئی چیز نہیں اس کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے اور یہی وہ بات ہے جو ہم چاہتے ہیں۔فرمایا۔ہمیشہ ایسا ہوتا رہتا ہے کہ انسان جہاں چاہتا ہے کہ بیمار بچ جاوے وہاں غلطیاں ہو جاتی ہیں۔اس پر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے عرض کی کہ چند دن ہوئے حضور نے فرمایا تھا کہ خواب میں دیکھا ہے کہ اس مکان میں موت ہونے والی ہے اور بکری ذبح کی گئی اور ان دنوں میں مولوی نور الدین صاحب چونکہ بیمار تھے اس لیے ان کی نسبت خطرہ پڑ گیا تھا اور نواب محمد علی خاں صاحب اور ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب اور میں ہم تینوں اس بات کے گواہ ہیں۔فرمایا۔تقدیر دو طرح کی ہوتی ہے ایک کو تقدیر معلق کہتے ہیں اور دوسری کو تقدیر مبرم کہتے ہیں۔ارادۂ الٰہی جب ہو چکتا ہے تو پھر اس کا تو کچھ علاج نہیں ہوتا۔اگر اس کا بھی کچھ علاج ہوتا تو سب دنیا بچ جاتی۔مبرم کے علامات ہی ایسے ہوتے ہیں کہ دن بدن بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور حالت بگڑتی چلی جاتی ہے۔دیکھو نو دن کا تپ ٹوٹ گیا تھا بالکل نام و نشان باقی نہ رہا تھا مگر پھر دوبارہ چڑھ گیا۔یہ تو خدا نے نہیںکہا تھا کہ بخار ٹوٹنے کے بعد زندہ بھی رہے گا۔خدا کی دونوں پیشگوئیاں پوری ہونی تھیں۔بخار بھی ٹوٹ گیا۔اور خورد سالی میںفوت بھی ہوگیا۔کچھ مدت گذری کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک جگہ پانی بہہ رہا ہے اور مبارک اس میں گر گیا ہے۔بہتیرا دیکھا اور غوطے بھی لگائے مگر تلاش کرنے پر نہ ملا۔یہ خواب ہمیشہ میرے مد نظر رہا ہے۔سید میر حامد شاہ صاحب نے عرض کی کہ حضور میری والدہ نے آج صبح کو خواب میں دیکھا تھا کہ حضور