ملفوظات (جلد 9) — Page 260
دنیا کی بھروسہ والی زندگی نہیں ہے۔کچھ ہی کیوں نہ ہو آخر چھوڑنی پڑتی ہے۔مصائب کا آنا ضروری ہے۔دیکھو ایوبؑکی کہانی میں لکھا ہے کہ طرح طرح کی تکالیف اسے پہنچیں اور بڑے بڑے مصائب نازل ہوئے اور اس نے صبر کئے رکھا۔ہمیں یہ بہت خیال رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو ہماری جماعت صرف خشک استخواں کی طرح ہو۔بعض آدمی خط لکھتے ہیں تو ان سے مجھے بو آجاتی ہے شروع خط میں تو وہ بڑی لمبی چوڑی باتیں لکھتے ہیں کہ ہمارے لیے دعا کرو کہ ہم اولیاء اللہ بن جاویں اور ایسے اور ویسے ہو جاویں اور اخیر پر جا کر لکھ دیتے ہیں کہ فلاں ایک مقدمہ ہے اس کے لیے ضرور دعا کریں کہ فتح نصیب ہو۔اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ اصل میں یہ ایک مقدمہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے خط لکھا گیا تھا۔خدا کی رضا مندی مد نظر نہ تھی۔اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے دو طرح کی تقسیم کی ہوئی ہے۔کبھی تو وہ اپنی منوانا چاہتا ہے اور کبھی انسان کی مان لیتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ ہمیشہ انسان کی مرضی کے مطابق ہی کام ہوا کریں۔اگر ایسا سمجھا جائے کہ خدا کی مرضی ہمیشہ انسان کے ارادوں کے موافق ہو تو پھر امتحان کوئی نہ رہا۔کون چاہتا ہے کہ آرام، عیش و عشرت اور ہر طرح کے سکھ سے دکھ میں مبتلا ہوؤں۔جس کے تین چار بیٹے ہوں، وہ کب چاہتا ہے کہ یہ مَر جائیں اور کون چاہتا ہے کہ میری تمام خوشیاں دکھوں اور مصیبتوں سے تبدیل ہوجاویں۔غرض خدا نے امتحان کو انسان کی ترقی کے لیے اور یا اس کی بد گوہری ظاہر کرنے کے لیے مقرر کیا ہے۔بہت لوگ امتحان کے وقت طرح طرح کی باتیں بنانے لگ جاتے ہیں اور طرح طرح کے باطل توہمات اور وساوس انہیں اٹھا کرتے ہیں مگر اصلی بات یہ ہے کہ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ(البقرۃ: ۱۱)۔یاد رکھو خدا کا ساتھ بڑی چیز ہے۔اگر فرض بھی کر لیں کہ نہ کوئی بیٹا رہے نہ کوئی مال و دولت رہے پھر بھی خدا بڑی دولت ہے۔اس نے یہ کبھی نہیں کیا کہ جو اس کے ہو کر رہتے ہیں ان کو بھی تباہ کر دیا ہو۔اس کے امتحان میں استقلال اور ہمت سے کام لینا چاہیے۔یاد رکھو کہ امتحان ہی وہ چیز ہے