ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 239

میں ہے کہ وہ عذاب آنے سے پہلے اس کے حضور میںجھک جائے اور اس کا امن مانگتا رہے۔عذاب آنے پر گڑ گڑانا اور وَ قِنَا وَ قِنَا پکارنا تو سب قوموں میں یکساں ہے۔ایسے وقت میں جبکہ خدا کا عذاب چاروں طرف سے محاصرہ کئے ہوئے ہو ایک عیسائی، ایک آریہ، ایک چوہڑا بھی اس وقت پکار اٹھتا ہے کہ الٰہی ہمیں بچائیو۔اگر مومن بھی ایسا کرے تو پھر اس میں اور غیروں میں فرق کیا ہوا۔مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ عذاب آنے سے قبل خدا تعالیٰ کے کلام پر ایمان لا کر خدا کے حضور گڑ گڑائے۔اس بات کو اس نکتہ کو خوب یاد رکھو کہ مومن وہی ہے جو عذاب آنے سے پہلے کلامِ الٰہی پر یقین کر کے عذاب کو وارد سمجھے اور اپنے بچاؤ کے لیے دعا کرے۔دیکھو! ایک آدمی جو توبہ کرتا ہے۔دعا میں لگا رہتا ہے تو وہ صرف اپنے پر نہیں بلکہ اپنے بال بچوں پر اپنے قریبیوں پر رحم کرتا ہے کہ وہ سب ایک کے لیے بچائے جا سکتے ہیں۔ایسا ہی جو غفلت کرتا ہے تو نہ صرف اپنے لیےکرتا ہے بلکہ اپنے تمام کنبے کا بد خواہ ہے۔یہ بڑا نازک وقت ہے۔خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ مشتعل ہے۔نہیں معلوم کہ آئندہ موسم طاعون میں کیا ہونے والا ہے۔اس کا کلام مجھے اطلاع دیتا ہے کہ آگے سے بڑھ کر مَری پڑے گی۔پس مومنو! قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيْكُمْ نَارًا(التحریم:۷) دعا میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ(الفرقان:۷۸)۔ایک انسان جو دعا نہیں کرتا۔اس میں اور چارپائے میں کچھ فرق نہیں۔ایسے لوگوں کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ(مـحمّد:۱۲) یعنی چارپائیوں کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔پس تمہاری بیعت کا اقرار اگر زبان تک محدود رہا تو یہ بیعت کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی۔چاہیے کہ تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں۔میں ہرگز یہ بات نہیں مان سکتا کہ خدا کا عذاب اس شخص پر وارد ہو جس کا معاملہ خدا تعالیٰ سے صاف ہو۔خدا اسے ذلیل نہیں کرتا جو اس کی راہ میں ذلّت اور عاجزی اختیار کرے۔یہ سچی اور صحیح بات ہے۔