ملفوظات (جلد 9) — Page 238
۵؍ستمبر ۱۹۰۷ء تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں آج صبح ۹بجے حضرت روح اللہ کے دست مبارک پر دس بارہ آدمیوں نے دار البرکات کے صحن میں بیعت کی۔حضور نے ایک لمبی تقریر فرمائی جس کا خلاصہ عرض ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ۔اب جو تم لوگوں نے بیعت کی تو اب خدا تعالیٰ سے نیا حساب شروع ہوا ہے۔پہلے گناہ صدق و اخلاص کے ساتھ بیعت کرنے پر بخشے جاتے ہیں۔اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ اپنے لیے بہشت بنا لے یا جہنم۔انسان پر دو قسم کے حقوق ہیں۔ایک تو اللہ کے دوسرے عباد کے۔پہلے میں تو اسی وقت نقصان ہوتا ہے جب دیدہ دانستہ کسی اَمر اللہ کی مخالفت قولی یا عملی کی جائے مگر دوسرے حقوق کی نسبت بہت کچھ بچ بچ کے رہنے کا مقام ہے۔کئی چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جنہیں انسان بعض اوقات سمجھتا بھی نہیں۔ہماری جماعت کو تو ایسا نمونہ دکھانا چاہیے کہ دشمن پکار اٹھیں کہ گو یہ ہمارے مخالف ہیں مگر ہیں ہم سے اچھے۔اپنی عملی حالت کو ایسا درست رکھو کہ دشمن بھی تمہاری نیکی خدا ترسی اور اتقاء کے قائل ہوجائیں۔یہ بھی یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی نظر جذرِ قلب تک پہنچتی ہے۔پس وہ زبانی باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔زبان سے کلمہ پڑھنا یا استغفار کرنا انسان کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔جب وہ دل و جان سے کلمہ یا استغفار نہ پڑھے۔بعض لوگ زبان سے اَسْتَغْفِرُ اللہَ کرتے جاتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ اس سے کیا مراد ہے۔مطلب تو یہ ہے کہ پچھلے گناہوں کی معافی خلوصِ دل سے چاہی جائے اور آئندہ کے لیے گناہوں سے باز رہنے کا عہد باندھا جائے اور ساتھ ہی اس کے فضل و امداد کی درخواست کی جائے۔اگر اس حقیقت کے ساتھ استغفار نہیں ہے تو وہ استغفار کسی کام کا نہیں۔انسان کی خوبی اسی