ملفوظات (جلد 9) — Page 240
مَرنا تو بیشک سب نے ہے مگر یہ موتیں جو آجکل ہو رہی ہیں یہ تو ذلّت کی موتیںہیں۔خدا اس سے محفوظ رکھے کہ ایک ابھی دفن نہیں ہوا تھا کہ دوسرا جنازہ تیار ہے۔پس راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔کوٹھڑی کے دروازے بند کر کے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیا جائے۔اپنا معاملہ صاف رکھو کہ خدا کا فضل تمہارے شامل حال ہو جو کام کرو نفسانی غرض سے الگ ہو کر کرو تا خدا کے حضور اجر پاؤ۔حضرت علیؓ کی نسبت روایت ہے کہ ایک کافر نے جس پر قابو پا چکے تھے ان کے منہ پر تھوکا تو آپ نے چھوڑ دیا۔اس نے پوچھا یہ کیوں؟ تو فرمایا اب میرے نفس کی بات درمیان میں آگئی۔اس نے جب دیکھا کہ یہ لوگ نفسانی کاموں سے اس قدر الگ ہیں تو مسلمان ہوگیا۔ایسے ایسے عملی نمونوں سے وہ کام ہو سکتا ہے جو کئی تقریریں اور وعظ نہیں کرتے۔۱ بلاتاریخ طلاق فرمایا۔جائز چیزوں میں سے سب سے زیادہ بُرا خدا اور اس کے رسول نے طلاق کو قرار دیا ہے اور یہ صرف ایسے موقعوں کے لیے رکھی گئی ہے جبکہ اشد ضرورت ہو۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے جو ربّ ہے کہ سانپوں اور بچھوؤں کے لیے خوراک مہیا کی ہے ویسا ہی ایسے انسانوں کے لیے جن کی حالتیں بہت گری ہوئی ہیں اور جو اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتے۔طلاق کا مسئلہ بنا دیا ہے کہ وہ اس طرح ان آفات اور مصیبتوں سے بچ جاویں جو طلاق کے نہ ہونے کی صورت میں پیش آئیں یا بعض اوقات دوسرے لوگوں کو بھی ایسی صورتیں پیش آجاتی ہیں اور ایسے واقعات ہوجاتے ہیں کہ سوائے طلاق کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔پس اسلام نے جو کہ تمام مسائل پر حاوی ہے یہ مسئلہ طلاق کا بھی دکھلایا ہے اور ساتھ ہی اس کو مکروہ بھی قرار دیا ہے۔رازق اللہ تعالیٰ ہے فرمایا۔اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔وہ ہر طرح سے اور ہرجگہ سے اپنے پر ۱ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶