ملفوظات (جلد 9) — Page 225
بیعت سے کاٹ دیا ہے۔اب اگر اس کے دل میں واقعی اعتراض تھے تو اس کو خود الگ ہونا چاہیے تھا نہ کہ ہم خود کاٹتے۔اگر وہ ہمارے سلسلہ کو بُرا سمجھ کر چھوڑ دیتا پھر تو ایک بات تھی مگر ہم نے اس کو خود جماعت سے کاٹ دیا ہے۔وہ اپنی تحریروں میں مانتا ہے کہ انہوں نے خود میرا نام بیعت سے کاٹ دیا۔۱ ۱۹؍اگست ۱۹۰۷ء (بوقتِ ظہر) الہام ’’آید آں روزے کہ مستخلص شود ‘‘ طبابت ایک ظنی علم ہے طبیبوں کے علاج اور بعض بیماریوں کا ذکر ہو رہا تھا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اکثر طبیبوں کا یہ کام ہے کہ جب انہیں مایوسی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں اور بظاہر نظر کامیابی کی راہیں مسدود نظر آتی ہیں تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ خاص خاص شبہات پیدا ہوگئے تھے۔ورنہ یہ ہوتا تو ٹھیک تھا۔یہ بات نہیں ہو سکی وہ نہیں ہو سکی۔ایسا کرنا چاہیے تھا ویسا کرنا چاہیے تھا مگر یہ سب باتیں توحید کے برخلاف ہیں۔اگر طبیب سے غلطی ہوگئی ہے یا کامیابی نہیں ہو سکی تو پھر کیا ہوا۔اس کا کام تو صرف ہمدردی کرنا تھا تقدیر کا مقابلہ کرنا نہ تھا۔ایک طبیب کا ذکر ہے کہ وہ قبرستان کو جاتے وقت برقع پہن لیا کرتے تھے کسی نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔طبیب نے جواب دیا کہ یہ سب آدمی میری دوائیوں سے ہی ہلاک ہوئے تھے۔سنّت اللہ اسی طرح سے ہے کہ کام تو وہ خود کرتا ہے مگر اپنی حکمت سے اسباب کا ایک سلسلہ بھی قائم کر دیا ہوا ہے۔پنجابی میں ایک مثل ہے ’’مارے آپ تے نام دھرایا تاپ‘‘عجیب بات ہے کہ کَل بگڑی کی بگڑتی چلی جاتی ہے کچھ پتا نہیں لگتا کہ ہوتا کیا ہے۔کوئی دعویٰ کرنے کا امکان نہیں۔دیکھو جہاں پیچ پڑنا ہوتا ہے وہاں بے اختیارخود بخود صورت بگڑتی جاتی ہے۔ایک مرض کا علاج کرو تو ۱ الحکم جلد ۱۱نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۷ءصفحہ ۴