ملفوظات (جلد 9) — Page 224
ادھر ادھر اس طرح پھرتا رہتا تھا جیسے کسی کو قطرب کی بیماری ہوجاتی ہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ مخالف کی بات کا اس قدر اثر پڑجانا کہ اکثر اوقات روتے رہنا کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس نے رجوع کیا تھا۔ساٹھ ستر آدمیوں کے سامنے اس نے زبان نکالی اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر دجّال کہنے سے رجوع کیا تھا۔لیکھرام کی پیشگوئی لیکھرام کی نسبت چھ برس کی پیشگوئی تھی۔پانچ برس اس نے شوخی سے گذارے اور میری نسبت پیشگوئی بھی کی کہ تم تین سال کے اندر ہیضہ سے مَر جاؤ گے۔چونکہ اس نے بہت شوخی کی تھی اس لیے وہ مہلت بھی اس کے لیے کم کر دی گئی اور پانچ برس کے اندر ہی ہلاک ہوگیا اور یہ ایک جلالی رنگ کی پیشگوئی تھی مگر آتھم نے چونکہ انکساری اختیار کی تھی اس لیے خوف اور رجوع کے سبب اس کی میعاد بڑھ گئی۔اور یہ ایک جمالی رنگ کی پیشگوئی تھی۔ڈاکٹر عبد الحکیم کی بے باکی عبد الحکیم کی شوخی اور بے باکی پر حضرت نے فرمایا کہ ہزاروں لوگ خود پسندی اور رعونت کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔یہ تو بہت ہی دلیر ہوگیا ہے اور حد سے بڑھ گیا ہے۔جتنی گالیاں انسان سوچ سکتا ہے وہ سب اس نے ہمیں دی ہیں۔اس کے رو برو بڑے بڑے نشانات خدا نے دکھائے۔اس نے خود بھی تصدیق کی۔بیس برس تک یہ ہمارا مصدق رہا۔اس کے خطوط میرے پاس موجود ہیں۔یہ کہتا تھا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نجات ہوسکتی ہے۔ہم نے اسے نصیحت کی اور اس کی غلطی سے اسے متنبہ کیا۔مگر اس نے بُرا منایا۔آخر اس کا یہ مرض بڑھتا گیا اور تکبر پیدا ہوتا گیا۔شیطان بھی تو تکبر کی وجہ سے ہی ہلاک کیا گیا تھا۔اس کو چاہیے تھا کہ جب ہم نے روکا تھا تو خود قادیان میں آجاتا۔ہماری صحبت سے فائدہ اٹھاتا اور اپنے وساوس کو انکساری سے پیش کرتا۔ایسے گند نبیوں کے ذریعہ سے ہی دور ہو سکتے ہیں۔مگر وہ کہتا ہے کہ نبیوں کی اتباع کی ضرورت نہیں۔خاکساری کے ساتھ آتا۔ہم دعا بھی کرتے اور اس کے وساوس کا جواب بھی دے دیتے۔اس نے اپنا ایک خواب بھی چھپوایا تھا کہ جس میں یہ ایک شخص کو کہتا ہے کہ مرزا صاحب نے میرا نام