ملفوظات (جلد 9) — Page 226
ساتھ ہی قے کے ذریعہ سے یا کسی اور وجہ سے کئی مرضیں اور پیدا ہوجاتی ہیں۔مگر جہاں آرام آنا ہوتا ہے تو صرف عورتوں کے سونف اجوائن بتانے سے بھی آرام ہوجاتا ہے اور خود بخود سب علاج کر لیتی ہیں۔طبابت ایک ظنّی علم ہے۔دعویٰ کا کوئی امکان نہیں۔جب بیماری بڑھنی ہو تو علاج کرتے کرتے بڑھتی جاتی ہے۔مَرنا برحق ہے اور ایک دن موت ضرور آکر رہے گی حدیث شریف میں آیا ہے کہ خوش قسمت انسان وہ ہے جو نیک اعمال کر کے مَرے۔عمر کا کیا ہے۔ساٹھ برس جئیں خواہ سو برس آخر موت برحق ہے۔جنون کا مرض حضرت حکیم الامت نے ایک خط پڑھ کر سنایا جس میں ایک شخص کی بیماری کی نسبت بعض باتیں درج تھیں اور دعا کے لیے حضرت اقدس کی خدمت میں بھی التجا کی ہوئی تھی۔اس پر حضرت نے فرمایا۔خدا اپنا فضل کرے۔یہ مرض جنون کی نہایت خطرناک ہے۔حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ حضور انبیاء نے بھی یہ دعا مانگی ہے کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْـجُذَامِ وَالْـجُنُوْنِ۔۔۔۔۔الـخ (بوقتِ عصر) طاعون موسمی تغیر و تبدل پر گفتگو ہو رہی تھی۔باتوں ہی باتوں میں طاعون کا ذکر چل پڑا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ اب کی دفعہ طاعون بہت کم پڑے گی کیونکہ زور بہت ہوگیاہے اور چوہے بھی بہت مارے گئے ہیں۔ان کی ایسی رایوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا جس کی نسبت قرآن مجید میں لکھا ہے وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا(بنی اسـرآءیل:۵۹) مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (الرعد:۱۲) معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس جگہ ڈاکٹروں اور