ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 223

سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی پیشگوئی واقع ہونے والی ہے۔دو تین ماہ میں کوئی نہ کوئی نشان ضرور ظہور میں آجاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے خاتمہ کے دن قریب ہیں کیونکہ لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں نئے نئے نشانات ظہور میں آئیں گے اور جیسے تسبیح کا دھاگا توڑ دیا جاوے تو دانے پر دانہ گرتا ہے ویسے ہی نشان پر نشان ظاہر ہوگا۔یہ عجیب بات ہے کہ کوئی سال اب خالی نہیں جاتا۔دو چار مہینہ میں کوئی نہ کوئی نشان ضرور واقع ہوجاتا ہے۔تمام نبیوں نے اس بات کو مان لیا ہے کہ جس زور سے آخری زمانہ میں نشانات کا نزول ہوگا اس سے پہلے ویسا کبھی نہیں ہوا ہوگا۔مخالفت ہمارے لئے مفید ہے فرمایا۔مخالفوں کا انکار ہمارے واسطے بہتر ہے کیونکہ جتنی گرمی زور سے پڑتی ہے اتنی ہی بارش زور سے ہوتی ہے۔جس قدر مخالفوں میں تپش بڑھتی جائے گی اتنے ہی نشانات بارش کی طرح برستے جائیں گے۔۱ ۱۸؍اگست۱۹۰۷ء (بوقت عصر) مخالف ہمیں منہاج نبوت پر پرکھیں کسی شخص کے ذکر پر فرمایا کہ مجوسیوں، یہودیوں اور نصرانیوں نے بھی تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کئے تھے۔جس طرح سے لوگ انبیاء پر اعتراض کرتے رہے ہیں اور خدا آخر ان کے جواب دیتا رہا ہے اسی طرح کے جواب ہم سے بھی لو۔ان کو چاہیے کہ ہم پر کوئی ایسا اعتراض کریں جو کسی پہلے نبی پر نہ ہو سکتا ہو۔چاہیے کہ منہاج نبوت پر ہمیں پرکھ لیں۔آتھم کی پیشگوئی آتھم کی نسبت اعتراض کرتے ہیں۔مگر ان کو خیال کرنا چاہیے کہ جب اسے کہا گیا تھا کہ چونکہ تم نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجّال کہا ہے اس لیے تمہاری نسبت یہ پیشگوئی کی گئی ہے۔تو یہ بات سن کر اس نے سر ہلایا اور کہا کہ نہیں جی، نہیں جی۔میں نے تو نہیں کہا اور زبان نکالی اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر بڑا انکار کیا۔اور اکثر روتا رہتا تھا اور ۱ الحکم جلد ۱۱نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۷ءصفحہ ۴