ملفوظات (جلد 9) — Page 211
کر پڑھو اور احکامِ شریعت پر عمل کرو۔انسان کا کام یہی ہے۔آگے پھر خدا کے کام شروع ہوجاتے ہیں۔جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتا ہے خدا اس پر راضی ہوتا ہے۔اختلافِ فقہاء فرمایا۔آجکل علماء کے درمیان باہم مسائل کے معاملہ میں اس قدر اختلاف ہے کہ ہر ایک مسئلہ کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اس میں اختلاف ہے۔جیسا کہ لاہور میں ایک طبیب غلام دستگیر نام تھا۔وہ کہا کرتا تھا کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کی اس ملک میں رسم ہے کہ وہ طبیب سے پوچھا کرتے ہیں کہ یہ دوا گرم ہے یا سرد؟ تو میں نے اس کےجواب میں ایک بات رکھی ہوئی ہے۔میں کہہ دیاکرتا ہوں کہ اختلاف ہے۔اوّل تو اس اختلاف کے سبب کئی فرقے ہیں۔پھر مثلاً ایک فرقہ حنفیوں کا ہے ان میں آپس میں اختلاف ہے۔پھر خود امام ابو حنیفہؒ کے اقوال میں اختلاف ہے۔آجکل کے پیر فرمایا۔آجکل کے پیر اکثر فاحشہ عورتوں کو مرید بناتے ہیں۔بعض ہندوؤں کے پیر ہوتے ہیں۔ایسے لوگ اپنی بد کاریوں پر اور اپنے کفر پر برابر قائم رہتے ہیں۔صرف پیر کو چندہ دے کر وہ مرید بن سکتے ہیں۔اعمال خواہ کیسے ہی ہوں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا۔اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو آنحضرتؐابوجہل کو بھی مرید بنا سکتے تھے وہ اپنے بتوں کی پرستش بھی کرتا رہتا اور اس قدر لڑائی جھگڑے کی ضرورت نہ پڑتی مگر یہ باتیں بالکل گناہ ہیں۔۱ بلاتاریخ۲ حج کے لیے نہ جانے کی وجہ ایک شخص نے عرض کی کہ مخالف مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب حج کو کیوں نہیں جاتے؟ فرمایا۔یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مدینہ ۱بدرجلد ۶ نمبر ۳۱ مورخہ یکم اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ و الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ ۲اس ڈائری پر کوئی تاریخ تو درج نہیں لیکن اندازاً جولائی ۱۹۰۷ء کی کسی تاریخ کے یہ ملفوظات ہیں۔واللہ اعلم بالصواب(مرتّب)