ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 212

مدینہ میں رہے۔صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا مگر آپ نے دس سال میں کوئی حج نہ کیا۔حالانکہ آپ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے۔لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو۔وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج ادا کرنے کے وسائل موجود ہوں۔جب وحشی طبع علماء اس جگہ ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں اور گورنمنٹ کا بھی خوف نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے۔لیکن ان لوگوں کو اس اَمر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے؟ اور ہماری جماعت میں داخل ہوجائیں گے؟ اچھا یہ تمام مسلمان علماء اوّل ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آویں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہوجائیں گے اور ہمارے مرید ہوجائیں گے۔اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا تاکہ آئندہ مولویوں کا فتنہ رفع ہو۔ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے۔یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرتؐپر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔توکل فرمایا۔توکل کرنے والے اور خدا کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔جو آدمی صرف اپنی کوششوں میں رہتا ہے اس کو سوائے ذلّت کے اور کیا حاصل ہو سکتا ہے۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہمیشہ سے سنّت اللہ یہی چلی آتی ہے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑتے ہیں وہ اس کو پاتے ہیں اور جو اس کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے وہ اگر چند روز مکروفریب سے کچھ حاصل بھی کر لیں تو وہ لاحاصل ہے کیونکہ آخر ان کو سخت ناکامی دیکھنی پڑتی ہے۔اسلام میں عمدہ لوگ وہی گذرے ہیں جنہوں نے دین کے مقابلہ میں دنیا کی کچھ پروا نہ کی۔ہندوستان میں قطب الدینؒ اور معین الدینؒ خدا کے اولیاء گذرے ہیں۔ان لوگوں نے پوشیدہ خدا کی عبادت کی مگر خدا نے ان کی عزّت کو ظاہر کر دیا۔ہم نے بٹالہ میں ایک پیر زادہ کو دیکھا کہ وہ اپنی زمین کے مقدمات کے واسطے غبار آلودہ ہوا