ملفوظات (جلد 9) — Page 210
جودم غافل سو دم کافر۔آجکل کے لوگوں میں صبر نہیں۔جو اس طرف جھکتے ہیں وہ بھی ایسے مستعجل ہوتے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ پھونک مار کر ایک دم میں سب کچھ بنا دیا جائے اور قرآن شریف کی طرف دھیان نہیں کرتے کہ اس میں لکھا ہے کہ کوشش اور محنت کرنے والوں کو ہدایت کا راستہ ملتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ تمام تعلق مجاہدہ پر موقوف ہے۔جب انسان پوری توجہ کے ساتھ دعا میں مصروف ہوتا ہے تو اس کے دل میں رقّت پیدا ہوتی ہے اور وہ آستانہ الٰہی پر آگے سے آگے بڑھتا ہے تب وہ فرشتوں کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے۔ہمارے فقراء نے بہت سی بدعتیں اپنے اندر داخل کر لی ہیں۔بعض نے ہندوؤں کے منتر بھی یاد کئے ہوئے ہیں اور ان کو بھی مقدس خیال کیا جاتا ہے۔ہمارے بھائی صاحب کو ورزش کا شوق تھا۔ان کے پاس ایک پہلوان آیا تھا۔جاتے ہوئے اس نے ہمارے بھائی صاحب کو الگ لے جا کر کہا کہ میں ایک عجیب تحفہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو بہت ہی قیمتی ہے۔یہ کہہ کر اس نے ایک منتر پڑھ کر ان کو سنایا اور کہا کہ یہ منتر ایسا پُر تاثیر ہے کہ اگر ایک دفعہ صبح کے وقت اس کو پڑھ لیاجاوے تو پھر سارا دن نہ نماز کی ضرورت باقی رہتی ہے اورنہ وضو کی ضرورت۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے کلام کی ہتک کرتے ہیں۔وہ پاک کلام جس میں هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ (البقرۃ:۳) کا وعدہ دیا گیا ہے خود اسی کو چھوڑ کر دوسری طرف بھٹکتے پھرتے ہیں۔انسان کے ایمان میں ترقی تب ہی ہو سکتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فرمودہ پر چلے اور خدا پر اپنے توکل کو قائم کرے۔ایک دفعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓکو دیکھا کہ وہ کھجوریں جمع کرتا تھا۔آپ نے فرمایا کہ کس لیے ایسا کرتا ہے۔اس نے کہا کہ کل کے لیے جمع کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ کیا توکل کے خدا پر ایمان نہیں رکھتا؟ لیکن یہ بات بلالؓکو فرمائی ہر کسی کو نہیں فرمائی۔اور ہر ایک کو وعظ اور نصیحت اس کی برداشت کے مطابق کیا جاتا ہے۔بہترین ریاضت ایک شخص نے عرض کی کہ میں پہلے فقراء کے پاس پھرتا رہا اور کئی طرح کی مشکل ریاضتیں انہوں نے مجھ سے کرائیں۔اب میں نے آپ کی بیعت کی ہے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ فرمایا۔نئے سرے سے قرآن شریف کو پڑھو اور اس کے معانی پر خوب غور کرو۔نماز کو دل لگا