ملفوظات (جلد 9) — Page 209
دین سے بالکل الگ ہیں جس دنیا کے پیچھے عوام لگے ہوئے ہیں اسی دنیا کے پیچھے وہ بھی خراب ہو رہے ہیں۔توجہ اور دم کشی اور منتر جنتر اور دیگر ایسے امور کو اپنی عبادت میں شامل کرتے ہیں جن کا عبادت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ صرف دنیا پرستی کی باتیں ہیں اور ایک ہندو کافر اور ایک مشرک عیسائی بھی ان ریاضتوں اور ان کی مشق میں ان کے ساتھ شامل ہو سکتا بلکہ ان سے بڑھ سکتا ہے اصلی فقیر تو وہ ہے جو دنیا کی اغراضِ فاسدہ سے بالکل الگ ہوجائے اور اپنے واسطے ایک تلخ زندگی قبول کرے تب اس کو حالت عرفان حاصل ہوتی ہے اور وہ ایک قوت ایمانی کو پاتا ہے۔آجکل کے پیرزادے اور سجادہ نشین نماز جو اعلیٰ عبادت ہے اس کی یا تو پروا نہیں کرتے یا ایسی طرح جلدی جلدی ادا کرتے ہیں جیسے کہ کوئی بیگار کاٹنی ہوتی ہے اور اپنے اوقات کو خود تراشیدہ عبادتوں میں لگاتے ہیں جو خدا اور رسول نے نہیں فرمائیں۔ایک ذکر اَرّہ بنایا ہوا ہے جس سے انسان کے پھیپھڑے کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔بعض آدمی ایسی مشقتوں سے دیوانے ہوجاتے ہیں اور بعض مَر ہی جاتے ہیں جو دیوانے ہو جاتے ہیں ان کو جاہل لوگ ولی سمجھنے لگ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنی رضامندی کی جو راہیں خود ہی مقرر فرما دی ہیں وہ کچھ کم نہیں۔خدا تعالیٰ ان باتوں سے راضی ہوتا ہے کہ انسان عفت اور پرہیز گاری اختیار کرے۔صدق و صفا کے ساتھ اپنے خدا کی طرف جھکے۔دنیوی کدورتوں سے الگ ہو کر تَبَتُّل اِلَی اللہ اختیار کرے۔خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر اختیار کرے۔خشوع کے ساتھ نماز ادا کرے۔نماز انسان کو منزّہ بنا دیتی ہے۔نماز کے علاوہ اٹھتے بیٹھتے اپنا دھیان خدا کی طرف رکھے یہی اصل مدعا ہے جس کو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تعریف میں فرمایا ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی قدرتوں میں فکر کرتے ہیں۔ذکر اور فکر ہر دو عبادت میں شامل ہیں فکر کے ساتھ شکر گذاری کا مادہ بڑھتا ہے۔انسان سوچے اور غور کرے کہ زمین اور آسمان، ہوا اور بادل، سورج اور چاند، ستارے اور سیارے، سب انسان کے فائدے کے واسطے خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں۔فکر معرفت کو بڑھاتا ہے۔غرض ہر وقت خدا کی یاد میں اس کے نیک بندے مصروف رہتے ہیں۔اسی پر کسی نے کہا کہ