ملفوظات (جلد 9) — Page 208
چکڑالوی لوگ دھوکا دیتے ہیں کہ کیاقرآن محتاج ہے۔اے نادانو! کیا تم بھی محتاج نہیں؟ اور خدا کی ذات کی طرح بے احتیاج ہو؟ قرآن تمہارا محتاج نہیں پر تم محتاج ہو کہ قرآن کو پڑھو، سمجھو اور سیکھو۔جبکہ دنیا کے معمولی کاموں کے واسطے تم استاد پکڑتے ہو تو قرآن شریف کے واسطے استاد کی ضرورت کیوں نہیں؟ کیا بچہ ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی قرآن پڑھنے لگے گا؟ بہر حال معلّم کی ضرورت ہے۔جب مسجد کا ملّاں ہمارا معلّم ہوسکتا ہے تو کیا وہ نہیں ہو سکتا جس پر خود قرآن شریف نازل ہوا ہے۔دیکھو قانون سرکاری ہے اس کے سمجھنے اور سمجھانے کے واسطے بھی آدمی مقرر ہیں حالانکہ اس میں کوئی ایسے معارف اور حقائق نہیں جیسے کہ خدا کی پاک کتاب میں ہیں۔یاد رکھو کہ سارے انوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہیں۔جو لوگ آنحضرتؐکی اتباع نہیں کرتے ان کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔بجز نورِ اتباع خدا کو بھی پہچاننا مشکل ہے۔شیطان شیطان اسی واسطے ہے کہ اس کو نورِ اتباع حاصل نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تئیس سال۱ دنیا میں رہے۔متقی کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ اس بات کو محبت کی نگاہ سے دیکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا طریق عمل تھا۔۲ نابالغ کے نکاح کا فسخ سوال پیش ہوا کہ اگر نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح اس کا ولی کردے اور ہنوز وہ نابالغ ہی ہو اور ایسی ضرورت پیش آوے تو کیا طلاق بھی ولی دے سکتا ہے یا نہیں۔حضرت نے فرمایاکہ دے سکتا ہے۔۳ ۲۵؍جولائی ۱۹۰۷ء آجکل کے فقیر اور فقراء فرمایا۔میں تعجب کرتا ہوں کہ آجکل بہت لوگ فقیر بنتے ہیں مگر سوائے نفس پرستی کے اور کوئی غرض اپنے اندر نہیں رکھتے۔اصل ۱ بعد ازدعویٰ (مرتّب) ۲ بدر جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخہ یکم اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ نیز الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۵ ۳ بدر جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۵؍جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱