ملفوظات (جلد 9) — Page 207
ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔خدا کا سلام وہ ہے جس نے حضرت ابراہیمؑ کو آگ سے سلامت رکھا۔جس کو خدا کی طرف سے سلام نہ ہو بندے اس پر ہزار سلام کریں اس کے واسطے کسی کام نہیں آسکتے۔قرآن شریف میں آیا ہے سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ(یٰسٓ:۵۹) ایک دفعہ ہم کو کثرت پیشاب کے باعث بہت تکلیف تھی۔ہم نے دعا کی الہام ہوا۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اسی وقت تمام بیماری جاتی رہی۔سلام وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔باقی سب رسمی سلام ہیں۔حدیث کی اہمیت ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں ایک فقہی مسئلہ پیش کر کے درخواست کی کہ اس کا جواب صرف قرآن شریف سے دیا جاوے۔حضرت نے فرمایا کہ متقی کے واسطے مناسب ہے کہ اس قسم کا خیال دل میں نہ لاوے کہ حدیث کوئی چیز نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عمل تھا وہ گویا قرآن کے مطابق نہ تھا۔آجکل کے زمانہ میں مرتد ہونے کے قریب جو خیالات پھیلے ہوئے ہیں ان میں سے ایک خیال حدیث شریف کی تحقیر کا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کاروبار قرآن شریف کے ماتحت تھے۔اگر قرآن شریف کے واسطے معلّم کی ضرورت نہ ہوتی تو قرآن رسول پر کیوں اترتا۔یہ لوگ بہت بے ادب ہیں کہ ہر ایک اپنے آپ کو رسول کا درجہ دیتا ہے اور ہر ایک اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہے کہ قرآن شریف اسی پر نازل ہوا ہے۔یہ بڑی گستاخی ہے کہ ایک چکڑالوی مولوی جو معنے قرآن کے کرے اس کو مانا جاتا ہے اور قبول کیاجاتا ہے اور خدا کے رسول پر جو معنے نازل ہوئے ان کو نہیں دیکھا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو انسانوں کو اس اَمر کا محتاج پیدا کیا ہے کہ ان کے درمیان کوئی رسول ،مامور، مجدّد ہو۔مگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کا ہر ایک رسول ہے اور اپنے آپ کو غنی اور غیر محتاج قرار دیتے ہیں۔یہ سخت گناہ ہے۔ایک بچہ محتاج ہے کہ وہ اپنے والدین وغیرہ سے تکلم سیکھے اور بولنے لگے۔پھر استاد کے پاس بیٹھ کر سبق پڑھے۔جائے استاد خالی است۔