ملفوظات (جلد 9) — Page 146
اس جگہ کو چھوڑ دو اور کسی اونچے پہاڑ پر چلے جاؤ۔چنانچہ اس سے محفوظ ہو گئی۔اس وقت ایک شخص نے اعتراض بھی کیا کہ کیا آپ خد اتعالیٰ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ فرمایا۔میں ایک تقدیر خدا وندی سے دوسری تقدیر خدا وندی کی طرف بھاگتا ہوں وہ کون سا اَمر ہے جو خدا تعالیٰ کی تقدیر سے باہر ہے۔طاعون سے بچانے کے دو وعدے فرمایا۔خدا تعالیٰ نے دو وعدے اپنی وحی کے ذریعہ سے کئے ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ اس گھر کے رہنے والوں کو طاعون سے بچائے گا جیسا کہ اس نے فرمایا ہے کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔دوسرا وعدہ اس کا ہماری جماعت کے متعلق ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ (ترجمہ ) جن لوگوں نے مان لیا ہے اور اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کو نہ ملایا۔ایسے لوگوں کے واسطے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے کہ جماعت کے وہ لوگ بچائے جائیں گے جو پورے طور سے ہماری ہدایتوں پر عمل کریں اور اپنےا ندرونی عیوب اور اپنی غلطیوں کی میل کو دور کر دیں گے اور نفس کی بدی کی طرف نہ جھکیں گے بہت سے لوگ بیعت کر کے جاتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے۔صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کیا بنتا ہے۔خدا تو دلوں کے حالات سے واقف ہے۔۱ بلاتاریخ ہمدردی اور احتیاط سوال ہوا کہ طاعون کا اثر ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔ایسی صورت میں طبیب کے واسطے کیا حکم ہے؟ فرمایا۔طبیب اور ڈاکٹر کو چاہیے کہ وہ علاج معالجہ کرے اور ہمدردی دکھائے لیکن اپنا بچاؤ رکھے۔بیمار کے بہت قریب جانا اور مکان کے اندر جانا اس کے واسطے ضروری نہیں ہے وہ حال معلوم