ملفوظات (جلد 9) — Page 145
بھی یہ معنے نہ کر لیں کہ ڈوئی مَرا نہیں۔آسمان پر چلا گیا ہے۔۱ ۳۱؍مارچ۱۹۰۷ء (بوقتِ سیر) ایک الہام کا پورا ہونا صبح نو بجے کے قریب حضرت اقدس بمع خدام سیر کے واسطے باہر تشریف لے گئے۔حکیم محمد حسین صاحب قریشی کی لڑکی کے فوت ہوجانے کا ذکر تھا۔فرمایا۔ان کے خطوط اور تاریں آئی تھیں اور میں نے ان کے واسطے دعا کی تھی۔وہ ہماری جماعت کے مخلص اور بڑی خدمت کرنے والے ہیں۔ان کی لڑکی کے متعلق بہت دن پہلے الہام ہوچکا تھا کہ’’لاہور سے افسوسناک خبر آئی۔‘‘۲ ہمیں تو بہت فکر تھا کہ اس سے کیا مراد ہے اور اس وقت ایک آدمی بھی لاہور بھیجا تھا۔اچھا خدا کرے کہ اب اتنے پر ہی اکتفا ہو۔ظاہری اسباب کی رعایت لاہور میں بیماری کا ذکر تھا کہ بہت پھیلتی جاتی ہےاور قریباً ہر محلہ میں اس کا اثر ہے۔فرمایا۔یہ ہمارا حکم ہے۔بہتر ہے کہ لاہور کے دوست اشتہار دے دیں کہ جس گھر میں چوہے مَریں اور جس کے قریب بیماری ہو فوراً وہ مکان چھوڑ دینا چاہیے اور شہر کے باہر کسی کھلے مکان میں چلا جانا چاہیے۔یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔ظاہری اسباب کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے۔گندے اور تنگ و تاریک مکانوں میں رہنا تو ویسے بھی منع ہے خواہ طاعون ہو یا نہ ہو۔وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ (المدّثّر:۶) کا حکم ہے۔ہر ایک پلیدی سے پرہیز رکھنا چاہیے۔کپڑے صاف ہوں۔جگہ ستھری ہو۔بدن پاک رکھا جائے۔یہ ضروری باتیں ہیں اور دعا اور استغفار میں مصروف رہنا چاہیے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی طاعون ہوئی تھی۔ایک جگہ مسلمانوں کی فوج گئی ہوئی تھی۔وہاں سخت طاعون پڑی۔جب مدینہ شریف میں امیر المؤمنین کے پاس خبر پہنچی تو آپ نے حکم لکھ بھیجا کہ فوراً بدر جلد ۶ نمبر ۱۴ مورخہ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ءصفحہ ۷ ۲ بدر میں ایک اور جگہ یہ الہام یوں درج ہے ’’لاہور سے ایک افسوسناک خبر آئی‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۲۷ مورخہ ۴؍جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۷