ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 115

خیال تھا۔مگر اپنے خیال سے کیا بنتا ہے جب تک خدا کسی کو نہ بنائے کون بن سکتا ہے۔جس کو خدا تعالیٰ کسی کام پر مامور کرتا ہے وہ اس کو عمر عطا کرتا ہے۔اسے اس کے کام کے واسطے توفیق عطا کرتا ہے۔اس کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے۔دوسرے لوگ اپنے خیال میںہی مَر کھپ جاتے ہیں اور ان سے کچھ بن نہیں سکتا۔کوئی جھوٹاتحصیلدار بھی بنے تو دو چار روز کے بعد گرفتار ہو کر جیل خانہ میں چلا جاتا ہے چہ جائیکہ کوئی خدا کی طرف سے مامور اپنے آپ کو کہے حالانکہ وہ مامور نہ ہو۔۱ نماز میں امام ذکر ہوا کہ چکڑالوی کا عقیدہ ہے کہ نماز میں امام آگے نہ کھڑا ہو بلکہ صف کے اندر ہو کر کھڑا ہو۔فرمایا۔امام کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ وہ آگے کھڑا ہو۔یہ عربی لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں وہ شخص جو دوسرے کے آگے کھڑا ہو۔معلوم ہوتا ہے کہ چکڑالوی زبانِ عربی سے بالکل جاہل ہے۔۲ قِیَامَ فِیْ مَا اَقَامَ اللہُ ایک صاحب نے اپنا ایک خواب بیان کیا جس میں کسی بڑے کام کے کرنے کی طرف اشارہ تھا مگر اس کام کے واسطے سامان سردست مہیا نہ تھے اور ان کا منشا تھا کہ خواب کی بنا پر فوراً اس کام کو شروع کر دیں۔حضرت نے فرمایا کہ بعض خوابیں مدت کے بعد پوری ہونے والی ہوتی ہیں۔جب تک کہ اس کام کے واسطے اللہ تعالیٰ اسباب مہیا نہ کرے تب تک صبر کے ساتھ انتظارکرنا چاہیے۔دیکھو ۱ الحکم سے۔’’اب دیکھو جو شخص انسانی سلطنت میں جھوٹا دعویدار، تحصیلداری یا چپڑاسی ہونے کا کرے اس کو پکڑا جاتا ہے اور سزا دی جاتی ہے۔پھر کیا خدا کی سلطنت میں ایسا اندھیر چل سکتا ہے؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہےوَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (الـحاقۃ:۴۵تا۴۷) یعنی اگر یہ نبی ہمارے اوپر بعض باتیں جھوٹی بنا لیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کو کاٹ دیتے۔یہ آیت صاف بیان کر رہی ہے کہ خدا تعالیٰ پر کوئی جھوٹی وحی و الہام بنانے والا جلدی پکڑا جاتا اور ناکامیاب ہو کر مَرتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۹ مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰) ۲ بدر جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخہ ۲۸؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۸،۹ ۳ بدر جلد ۶نمبر ۱۱ مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۵