ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 116

حضرت یوسفؑ پر جس قدر مصائب آئے وہ سب بے وقت خواب سنانے کی وجہ سے آئے تھے۔شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ فقیر کو چاہیے کہ قِیَامَ فِیْ مَا اَقَامَ اللہُ پر عمل کرے۔یعنی جہاں خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے وہاں کھڑا رہے جب تک کہ خدا تعالیٰ خود وہاں سے نکلنے کے سامان نہ بنائے۔۳ ایمانی طاقت علم سے پیدا ہوتی ہے بات یہ ہے کہ ایمانی طاقت علم کے سوا پیدا نہیں ہوتی۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت صحابہؓ نے بھیڑ بکریوں کی طرح اپنی جانیں دے دی تھیں ان کو حق کا علم حاصل ہوگیا تھا۔پھر انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو نہ دیکھا۔میں نے جو کتاب حقیقۃ الوحی لکھی ہے اس کو جو شخص حرف بحرف پڑھ لے گا میں نہیں خیال کرتا کہ پھر وہ یہ خیال کرے کہ میں وہی ہوں جو اس کے خیال میں پڑھنے سے پہلے تھا جو شخص ہمارے سلسلہ کو آہستگی اور ٹھنڈے دل سے دیکھے گا۔میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں حق پر پائے گا۔سچائی میں خدا نے ایک قوت رکھی ہے۔سچائی دلوں کو خود اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔خدا نے تو لوہے میں بھی ایک کشش کی خاصیت رکھی ہے تو کیا سچ میں کوئی جذب نہیں ہے؟ سچ میں ایک کشش ہے وہ خود بخود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اصلاح کریں دنیا میں ایک دہریت پھیل رہی ہے۔تحصیل دنیا کے لیے ہر وقت دوڑ دھوپ میں لوگ لگے ہوئے ہیں۔اس کے لیے مجلسیں ہوتی ہیں اور ان میں شور پکار ہے کہ یہ کرو وہ کرو مگر اسلام کی بہبودی کا کسی کو کوئی فکر نہیں۔ایسی غفلت میں پھنسے ہوئے ہیں کہ عذاب کے سوائے ان سے غفلت رفع نہیں ہوتی۔ہمیں خدا نے صدہا بار بتایا ہے کہ خدا کے عذاب کے دن نزدیک ہیں اور جب تک لوگوں کے دل سیدھے نہ ہو جاویں خدا کے عذاب پیچھا نہ چھوڑیں گے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (الرعد:۱۲) یعنی خدا تعالیٰ کسی قوم