ملفوظات (جلد 9) — Page 114
جواب دیا اور کہا کہ قرآن شریف اور انجیل ہر دو سے ثابت ہے کہ حضرت عیسٰیؑ فوت ہوچکے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں کیونکہ آپ سے فیض حاصل کر کے معجزات دکھانے والے اب تک موجود ہیں۔اس سے بشپ لاچار ہوگیا۔۲ اور اس نے ہماری جماعت کے ساتھ گفتگو کرنے سے بالکل گریز کیا۔ہمارے اصول عیسائیوں پر ایسے پتھر ہیں کہ وہ ان کا ہرگز جواب نہیں دے سکتے۔یہ مولوی لوگ بڑے بد قسمت ہیں جو ترقی اسلام کی راہ روکتے ہیں۔عیسائیوں کا تو سارا منصوبہ خود بخود ٹوٹ جاتا ہے جبکہ ان کا خداہی مَر گیا تو پھر باقی کیا رہا؟ اسلام کے لیے موسم بہار کی آمد اسلام نے بڑے بڑے مصائب کے دن گذارے ہیں۔اب اس کا خزاں گذر چکا ہے اور اب اس کے واسطے موسم بہار ہے اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا(الـم نشـرح:۷) تنگی کے بعد فراخی آیا کرتی۔تنگی کے بعد فراخی آیا کرتی ہے مگر ملاں لوگ نہیں چاہتے کہ اسلام اب بھی سرسبزی اختیار کرے۔اسلام کی حالت اس وقت اندرونی بیرونی سب خراب ہوچکی ہوئی ہے۔ظاہری سلطنت اسلامی جو کچھ ہے وہ بھی نہایت ضعف کی حالت میں ہے اور اندرونی حالت یہ ہے کہ ہزاروں گرجاؤں میں جا بیٹھے ہیں اور بہت سے دہریہ ہوگئے ہیں۔جب یہ حالت اسلام کی ہوچکی تو کیا وہ خدا جس کا وعدہ تھا کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔کیا وقت نہیں آیا کہ اب بھی اسلام کی حفاظت کرے؟ چودھویں صدی کا مجدّد فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں کہ اس صدی کے مجدّد کو نہیں مانتے۔کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد ہوگا؟ صدی سے پچیس سال گزر گئے یعنی پورا چوتھا حصہ صدی کا طے ہوگیا ہے۔اب بتائیں کہ وہ مجدّد کون ہے اور کہاں ہے؟ ہم سے پہلے سب لوگ اس مجدّد کے منتظر تھے بلکہ صدیق حسن خان کا یہ خیال تھا کہ شاید میں ہی بن جاؤں اور عبد الحی لکھو کے والے کا بھی ایسا ہی