ملفوظات (جلد 9) — Page 113
وفات و حیاتِ مسیح سارا زور ان لوگوں کا اس بات پر ہے کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔حالانکہ نہیں سوچتے کہ یہ بات تو قرآن شریف میںلکھی ہےکہ وہ فوت ہوچکے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شہادت دی ہے کہ میں ان کو مُردوں میں دیکھ آیا ہوں۔قرآن شریف میں پہلے توفّی کا لفظ ہے اور رفع اس کے بعد۱ ہے۔پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ حضرت عیسٰیؑ کے زندہ ماننے میں اسلام کو کیا فائدہ حاصل ہے؟ سوائے اس کے کہ عیسائیوں کے جھوٹے خدا کو ایک خصوصیت حاصل ہو جاتی ہے اور عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ کو خدا بنا لیتے ہیں۔اور جاہل مسلمانوں کو دھوکا دے کر عیسائی بنا لیتے ہیں۔یسوع کو زندہ ماننے کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک لاکھ مسلمان مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا ہے۔یہ نسخہ تو آزمایا جا چکا ہے۔اب چاہیے کہ دوسرا نسخہ بھی چند روز آزما لیں جو ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ فوت ہوچکے تھے۔قاعدہ ہے کہ جب ایک دوائی سے فائدہ حاصل نہ ہو تو انسان دوسری کو استعمال کر لے۔ہم نے دیکھا ہے کہ عیسائیت کو مٹانے کے واسطے اس سے بڑا اور کوئی ہتھیار نہیں کہ جس وجود کو وہ خدا بناتے ہیں اسے مُردوں میں داخل ثابت کیا جائے۔پہلے پادری لوگ قادیان میں بہت آیا کرتے تھے اور خیموں میں ڈیرے لگاتے تھے اور وعظ کیا کرتے تھے مگر جب سے ہم نے یہ دعویٰ کیا ہے انہوں نے قادیان آنا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ایسا ہی لاہور میں لارڈ بشپ نے ایک بڑے مجمع میں مسیح کی زندگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ایک بڑا لیکچر دے کر حضرت مسیح کی فضیلت آنحضرتؐپر ثابت کرنی چاہی تھی۔تب کوئی مسلمان بھی اس کا جواب نہ دے سکا۔لیکن ہماری جماعت میں سے مفتی محمد صادق صاحب نے اٹھ کر ۱ الحکم سے۔’’رفع کے لفظ کو لیے پھرتے ہیں حالانکہ قرآن شریف میں مسیح علیہ السلام کے فوت ہونے کا بار بار ذکر ہوچکا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۹ مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰) ۲ الحکم سے۔’’آخر اس نے جواب دیا کہ تم میرزائی معلوم ہوتے ہو۔ہمارے مخالف مسلمانوں نے اس وقت کہا کہ یہ لوگ کافر تو ہیں مگر ہمارے کام آئے۔ہم کو مدد دی اور ہماری عزّت رکھ لی تھی۔‘‘ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۹ مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰)