ملفوظات (جلد 9) — Page 112
جاتا رہتا ہے۔ہمارے ایک رشتہ دار تھے انہوں نے فصد کرایا تھا۔جراح نے کہہ دیا کہ ہاتھ کو حرکت نہ دیں۔انہوں نے بہت احتیاط کے سبب بالکل ہاتھ کو نہ ہلایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ۴۰ دن کے بعد وہ ہاتھ بالکل خشک ہوگیا۔انسان کے قویٰ خواہ روحانی ہوں اور خواہ جسمانی جب تک کہ ان سے کام نہ لیا جائے وہ ترقی نہیں پکڑ سکتے۔۱ بعض لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ جو شخص اپنے قویٰ سے خوب کام لیتا ہے اس کی عمر بڑھ جاتی ہے۔بے کار ہو کر انسان مُردہ ہوجاتا ہے بیکار ہوا تو آفت آئی۔۲ مہمان کا حق سید حبیب اللہ صاحب کو مخاطب کر کے حضرت نے فرمایا کہ آج میری طبیعت علیل تھی اور میں باہر آنے کے قابل نہ تھا مگر آپ کی اطلاع ہونے پر میںنے سوچا کہ مہمان کا حق ہوتا ہے جو تکلیف اٹھا کر آیا ہے اس واسطے میں اس حق کو ادا کرنے کے لیے باہر آگیا ہوں۔علماء زمانہ کا رویہ فرمایا۔خدا کی قدرت ہے کہ ہمارے سلسلہ کے متعلق علماء زمانہ نے بےدیکھے سمجھے فتویٰ دے دیا اور ہم کو نصاریٰ سے بھی بدتر لکھا۔ان کو چاہیے تھا کہ پہلے ہمارے حالات کی تحقیقات کرتے۔ہماری کتابیں اچھی طرح سے پڑھ لیتے پھر جو انصاف ہوتا وہ کرتے۔تعجب ہے کہ یہ لوگ اب تک اسلام کی حالت سے غافل ہیں گویا ان کو معلوم ہی نہیں کہ اسلام کس شکنجہ میں پڑا ہے۔اسلام کی اندرونی حالت بھی اس وقت خراب ہے اور بیرونی حالت بھی خراب ہو رہی ہے۔۱ الحکم سے۔’’انسان کو خدا نے دل تدبّر و تفکّر کے لیے دیا ہے۔لوگ تدبّر و تفکّر سے کام نہیں لیتے۔اس سے دل سیاہ ہوجاتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۹ مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰) ۲بدر جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۶