ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 111

رکھے اور پھر خدا کو بھی نہ بھولے۔وہ ٹٹو کس کام کا ہے جو بر وقت بوجھ لادنے کے بیٹھ جاتا ہے اور جب خالی ہو تو خوب چلتا ہے۔وہ قابل تعریف نہیں۔وہ فقیر جو دنیوی کاموں سے گھبرا کر گوشہ نشین بن جاتا ہے وہ ایک کمزوری دکھلاتا ہے۔اسلام میں رہبانیت نہیں۔ہم کبھی نہیں کہتے کہ عورتوں کو اور بال بچوں کو ترک کردو اور دنیوی کاروبار کو چھوڑ دو۔نہیں بلکہ ملازم کو چاہیے کہ اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرے اور تاجر اپنی تجارت کے کاروبار کو پورا کرے لیکن دین کو مقدم رکھے۔۱ اس کی مثال خود دنیا میں موجود ہے کہ تاجر اور ملازم لوگ باوجود اس کے کہ وہ اپنی تجارت اور ملازمت کو بہت عمدگی سے پورا کرتے ہیں۔پھر بھی بیوی بچے رکھتے ہیں اور ان کے حقوق برابر ادا کرتے ہیں۔ایسا ہی ایک انسان ان تمام مشاغل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حقوق کو ادا کر سکتا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر بڑی عمدگی سے اپنی زندگی گذار سکتا ہے۔خدا کے ساتھ تو انسان کا فطرتی تعلق ہے کیونکہ اس کی فطرت خدا تعالیٰ کے حضور میں اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ(الاعراف:۱۷۳) کے جواب میں قَالُوْا بَلٰى کا اقرار کر چکی ہوئی ہے۔یاد رکھو کہ وہ شخص جو کہتا ہے کہ جنگل میں چلا جائے اور اس طرح دنیوی کدورتوں سے بچ کر خدا کی عبادت اختیار کرے وہ دنیا سے گھبرا کر بھاگتا ہے اور نامردی اختیار کرتا ہے۔دیکھو! ریل کا انجن بےجان ہو کر ہزاروں کو اپنے ساتھ کھینچتا ہے اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے۔پھر افسوس ہے اس جاندار پر جو اپنے ساتھ کسی کو بھی کھینچ نہیں سکتا۔انسان کو خدا تعالیٰ نے بڑی بڑی طاقتیں بخشی ہیں۔اس کے اندر طاقتوں کا ایک خزانہ خدا تعالیٰ نے رکھ دیا ہے لیکن وہ کسل کے ساتھ اپنی طاقت کو ضائع کر دیتا ہے اور عورت سے بھی گیا گذرا ہوجاتا ہے۔قاعدہ ہے کہ جن قویٰ کا استعمال نہ کیا جائے وہ رفتہ رفتہ ضائع ہوجاتے ہیں۔اگر چالیس دن تک کوئی شخص تاریکی میں رہے تو اس کی آنکھوں کا نور الحکم میں ہے۔’’تجارت کرو۔نوکری کرو۔دنیا کے کام کرو۔مگر خدا تعالیٰ کو نہ بھولو۔جو لوگ بیوی بچوں اور روزگار دنیا کے تعلقات میں ہو کر خدا سے غافل ہوجاتے ہیں وہ نامرد ہوتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۹ مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰)