ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 87

ساتھ ہمدردی ہو۔وہ نہیں چاہتا کہ ایک دوسرے کو مارے۔اسلام بھی جہاں یہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہ ہو وہاں اس کا یہ بھی منشا ہے کہ نوع انسان میں مودّت اور وحدت ہو۔۱ نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے۔اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں۔وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔پھر اسی وحدت کے لئے حکم ہے کہ روزانہ نمازیں محلہ کی مسجد میں اور ہفتہ کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر سال کے بعد عیدگاہ میں جمع ہوں۔اور کل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ بیت اللہ میں اکٹھے ہوں۔ان تمام احکام کی غرض وہی وحدت ہے۔اللہ تعالیٰ نے حقوق کے دو ہی حصے رکھے ہیں۔ایک حقوق اللہ دوسرے حقوق العباد۔اس پر بہت کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔ایک مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہےفَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا(البقرۃ:۲۰۱) یعنی اللہ تعالیٰ کو یاد کرو جس طرح پر تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔اس جگہ دو رمز ہیں۔ایک توذکر اللہ کو ذکر آباء سے مشابہت دی ہے۔اس میں یہ سرّ ہے کہ آباء کی محبت ذاتی اور فطرتی محبت ہوتی ہے۔دیکھو! بچہ کو جب ماں مارتی ہے وہ اس وقت بھی ماں ماں ہی پکارتا ہے۔گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسان کو ایسی تعلیم دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے فطری محبت کا تعلق پیدا کرے۔اس محبت کے بعد اطاعت امر اللہ کی خود بخود پیدا ہوتی ہے۔یہی وہ اصلی مقام معرفت کا ہے جہاں انسان کو پہنچنا چاہیے۔یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے فطری اور ذاتی محبت پیدا ہو جاوے۔ایک اور مقام پر یوں فرمایا ہے اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۶ مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴،۵