ملفوظات (جلد 8) — Page 88
وَالْاِحْسَانِ وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى (الـنحل:۹۱) اِس آیت میں ان تین مدارج کا ذکر کیاہے جو انسان کو حاصل کرنے چاہئیں پہلا مرتبہ عدل کا ہے۔اور عدل یہ ہے کہ انسان کسی سے کوئی نیکی کرے بشرط معاوضہ۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ ایسی نیکی کوئی اعلیٰ درجہ کی بات نہیں بلکہ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ عدل کرو۔اور اگر اس پر ترقی کرو تو پھر وہ احسان کا درجہ ہے یعنی بلا عوض سلوک کرو۔لیکن یہ امر کہ جو بدی کرتا ہے اس سے نیکی کی جاوے۔کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے دوسری پھیر دی جاوے یہ صحیح نہیں یا یہ کہو کہ عام طور پر یہ تعلیم عمل درآمد میں نہیں آسکتی چنانچہ سعدی کہتا ہے۔؎ نکوئی با بداں کردن چنان است کہ بد کردن برائے نیک مرداں اس لئے اسلام میں انتقامی حدود میں جو اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے کہ کوئی دوسرا مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ یہ ہے جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ الآیۃ(الشورٰی:۴۱) یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے اور جو معاف کر دے مگر ایسے محل اور مقام پر کہ وہ عفو اصلاح کا موجب ہو۔اسلام نے عفو خطا کی تعلیم دی لیکن یہ نہیں کہ اس سے شر بڑھے۔غرض عدل کے بعد دوسرا درجہ احسان کا ہے۔یعنی بغیر کسی معاوضہ کے سلوک کیا جاوے۔لیکن اس سلوک میں بھی ایک قسم کی خود غرضی ہوتی ہے کسی نہ کسی وقت انسان اس احسان یا نیکی کو جتا دیتا ہے۔اس لئے اس سے بھی بڑھ کر ایک تعلیم دی اور وہ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى کا درجہ ہے۔ماں جو اپنے بچہ کے ساتھ سلوک کرتی ہے وہ اس سے کسی معاوضہ اور انعام و اکرام کی خواہش مند نہیں ہوتی۔وہ اس کے ساتھ جو نیکی کرتی ہے محض طبعی محبت سے کرتی ہے۔اگر بادشاہ اس کو حکم دے کہ تُو اس کو دودھ مت دے اور اگر یہ تیری غفلت سے مر بھی جاوے تو تجھے کوئی سزا نہیں دی جاوے گی بلکہ انعام دیا جاوے گا۔اس صور ت میں وہ بادشاہ کا حکم ماننے کو طیار نہ ہوگی بلکہ اس کو گالیاں دے گی کہ یہ میری اولاد کا دشمن ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ذاتی محبت سے کررہی ہے۔اُس کی کوئی غرض درمیان نہیں۔یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔اور یہ آیت حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں پر حاوی ہے۔حقوق اللہ کے پہلو کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انصاف کی رعایت سے