ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 86

بیان سے عاجز ہے۔اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے جلیل الشان اور اولو العزم نبی تھے۔اگر خدا تعالیٰ کی تائید اورنصرت آپ کے ساتھ نہ ہوتی تو ان مشکلات کے پہاڑ کو اُٹھانا ناممکن ہو جاتا۔اور اگر کوئی اور نبی ہوتا تو وہ بھی رہ جاتا۔مگر جس اسلام کو ایسی مصیبتوں اور دکھوں کے ساتھ آپ نے پھیلایا تھا آج اس کا جو حال ہوگیا ہے وہ میں کیونکر کہوں؟ اسلام کی حقیقت اور تعلیم اسلام کے معنے تو یہ تھے کہ انسان خدا کی محبت اور اطاعت میں فنا ہو جاوے اور جس طرح پر ایک بکری کی گردن قصاب کے آگے ہوتی ہے اس طرح پر مسلمان کی گردن خدا تعالیٰ کی اطاعت کے لئے رکھ دی جاوے۔اور اس کا مقصد یہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہی کو وحدہٗ لاشریک سمجھے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اس وقت یہ توحید گم ہوگئی تھی اور یہ دیش آریہ ورت بھی بتوں سے بھرا ہوا تھا۔جیسا کہ پنڈت دیانند سرستی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ایسی حالت اور ایسے وقت میں ضرور تھا کہ آپ مبعوث ہوتے۔اسی کا ہمرنگ یہ زمانہ بھی ہے جس میں بُت پرستی کے ساتھ انسان پرستی اور دہریت بھی پھیل گئی ہے اور اسلام کا اصل مقصد اور روح باقی نہیں رہا۔اس کا مغز تو یہ تھا کہ خدا ہی کی محبت میں فنا ہو جانا اور اس کے سوا کسی کو معبود نہ سمجھنا اور مقصد یہ ہے کہ انسان رو بخدا ہو جاوے روبدنیا نہ رہے۔اور اس مقصد کے لئے اسلام نے اپنی تعلیم کے دو حصّے کئے ہیں۔اوّل حقوق اللہ دوم حقوق العباد۔حق اللہ یہ ہے کہ اس کو واجب الاطاعت سمجھے اور حقوق العباد یہ ہے کہ خدا کی مخلوق سے ہمدردی کریں۔یہ طریق اچھا نہیں کہ صرف مخالفت مذہب کی وجہ سے کسی کو دکھ دیں۔ہمدردی اور سلوک الگ چیز ہے اور مخالفت مذہب دوسری شے۔مسلمانوں کا وہ گروہ جو جہاد کی غلطی اور غلط فہمی میں مبتلا ہیں انہوں نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ کفّار کا مال ناجائز طور پر لینا بھی درست ہے۔خود میری نسبت بھی ان لوگوں نے فتویٰ دیا کہ ان کا مال لوٹ لو بلکہ یہاں تک بھی کہ ان کی بیویاں نکال لو حالانکہ اسلام میں اس قسم کی ناپاک تعلیمیں نہ تھیں۔وہ تو ایک صاف اور مصفّٰی مذہب تھا۔اسلام کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں کہ جیسے باپ اپنے حقوق ابوت کو چاہتا ہے اسی طرح وہ چاہتا ہے کہ اولاد میں ایک دوسرے کے