ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 85

خیال کرتا ہے۔تو میرے نزدیک وہ سخت گمراہ اور بے دین ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر شریعت اور نبوت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔اب کوئی شریعت نہیں آسکتی۔قرآن مجید خاتم الکتب ہے۔اس میں اب ایک شعشہ یا نقطہ کی کمی بیشی کی گنجائش نہیں ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوضات اور قرآن شریف کی تعلیم اور ہدایت کے ثمرات کا خاتمہ نہیں ہوگیا۔وہ ہر زمانہ میں تازہ بتازہ موجود ہیں اور انہیں فیوضات اور برکات کے ثبوت کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے۔اسلام کی حالت جو اس وقت ہے وہ پوشیدہ نہیں بالاتفاق مان لیا گیا ہے کہ ہر قسم کی کمزوریوں اور تنـزّل کا نشانہ مسلمان ہورہے ہیں ہر پہلو سے وہ گر رہے ہیں۔اُن کی زبان ساتھ ہے تو دل نہیں ہے اور اسلام یتیم ہوگیا ہے۔ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اُس کی حمایت اور سرپرستی کروں۔اور اپنے وعدہ کے موافق بھیجا ہے۔کیونکہ اس نے فرمایا تھا اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الـحجر:۱۰) اگر اس وقت حمایت اور نصرت اور حفاظت نہ کی جاتی تو وہ اور کونسا وقت آئے گا؟ اب اس چودھویں صدی میں وہی حالت ہورہی ہے جو بدر کے موقع پر ہوگئی تھی۔جس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ( اٰلِ عـمران:۱۲۴) اس آیت میں بھی دراصل ایک پیشگوئی مرکوز تھی یعنی جب چودھویں صدی میں اسلام ضعیف اور ناتوان ہو جائے گا۔اس وقت اللہ تعالیٰ اس وعدہ حفاظت کے موافق اس کی نصرت کرے گا۔پھر تم کیوں تعجب کرتے ہو کہ اُس نے اسلام کی نصرت کی؟ مجھے اس بات کا افسوس نہیں کہ میرا نام دجّال اور کذّاب رکھا جاتا ہے اور مجھ پر تہمتیں لگائی جاتی ہیں۔اس لئے کہ یہ ضرور تھا کہ میرے ساتھ وہی سلوک ہوتا جو مجھ سے پہلے فرستادوں کے ساتھ ہوا تا میں بھی اس قدیم سنت سے حصّہ پاتا۔میں نے تو ان مصائب اور شدائد کا کچھ بھی حصّہ نہیں پایا لیکن جو مصیبتیں اور مشکلات ہمارے سیّد ومولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں آئیں اُس کی نظیر انبیاء علیہم السلام کے سلسلے میں کسی کے لئے نہیں پائی جاتی۔آپ نے اسلام کی خاطر وہ دُکھ اُٹھائے کہ قلم اُن کے لکھنے اور زبان اُن کے