ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 41

حالت میں استقامت کا پتہ نہیں لگ سکتا کیونکہ امن اور آرام کے وقت تو ہر ایک شخص خوش رہتا ہے اور دوست بننے کو طیار ہے۔مستقیم وہ ہے کہ سب بلاؤں کو برداشت کرے۔طولِ امل سے ہی سب خرابیاں پیدا ہوتی ہیں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی موت کو دیکھو اور اس پر غور کرو کہ بڑےعبرت کی جگہ ہے کس طرح ناگہانی موت ان پر وارد ہوئی۔ہر ایک شخص کو سمجھنا چاہیے کہ یہ دن کسی وقت آنے والا ہے۔سب کو اس کے واسطے طیار رہنا چاہیے۔ان باتوں کا تصور اور مطالعہ انسان کو سچا مومن بنا دیتا ہے۔جب انسان دنیا کی طرف جھکتا ہے اور بہت امور کو اپنے گلے ڈال لیتا ہے تو ایک طولِ امل پیدا ہو جاتا ہے۔طولِ امل سے ہی سب خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔جو شخص عمر کو لمبا سمجھتا ہے اور بڑی بڑی امیدیں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کروں گا وہ کروں گا اس کے واسطے دل کی پاکیزگی کا حصول مشکل ہے۔مومن کو چاہیے کہ رات کو سوئے اور صبح اٹھنے کی امید نہ کرے اور صبح اٹھے تو رات تک زندگی کی امید نہ رکھے۔سب سے اعلیٰ اور آخری بات یہ ہے کہ دل کی پاکیزگی حاصل ہو۔جب خدا کسی پر فضل کرتا ہے تو دل کی پاکیزگی اس کو عطا کرتا ہے۔بغیر فضل الٰہی کے دل کی پاکیزگی حاصل نہیں ہو سکتی۔اوّل بات یہ ہے کہ طولِ امل جاتا رہے۔تب انسان تسلّی پکڑتا ہے۔جب انسان دن بھر ناجائز وسائل اختیار کرتا ہے اور دنیا کمانے کے پیچھے پڑا رہتا ہے تو دل ناپاک ہوجاتا ہے۔مگر موت سے زیادہ اور کوئی واعظ نہیں یہی بڑا واعظ ہے۔مومن میں اللہ تعالیٰ نے قوتِ جذب رکھی ہے اٹاوہ کے دوست سید صادق حسین صاحب اور دیگر دوست اس جگہ کے مخاطب تھے۔فرمایا۔اگر ایک آدمی بھی متقی اور صالح کسی مقام پر ہو جو اشاعت حق کے لیے پورا جوش رکھتا ہو تو خدا تعالیٰ اس میں قوت جاذبہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ ایک جماعت بنا ہی لیتا ہے کیونکہ مومن کبھی اکیلا نہیں رہ سکتا۔یہ نہیں کہ صرف معجزات کے ذریعہ سے ہی لوگوں پر حجّت پوری کی جاتی ہے۔بلکہ