ملفوظات (جلد 8) — Page 42
مومن میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوت جذب رکھی ہے۔سعید لوگ اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں اور غیرسعید لوگ بھی سلسلہ حقہ کی خدمت میں لگائے جاتے ہیں۔ان کے سپرد یہ خدمت کی جاتی ہے کہ سلسلہ حقہ کی مخالفت میں شور و غوغا مچا کر اس کی تشہیر کریں اور اس کی تبلیغ کو دور تک پہنچاویں۔مومن میں قوت جاذبہ ضرور ہوتی ہے۔جب میں براہین لکھتا تھا تو یہ الہام ہوا تھا کہ ہر ایک دور کے راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔اس وقت ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ تھا۔اور یہ کتاب وہ ہے جو ہرایک فرقہ عیسائی، ہندو، برہمو، آریہ اور سب مخالفین کے پاس ہے۔مولوی محمد حسین نے اس پر بڑا ریویو لکھا تھا۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ پیشگوئیاں ہم نے بنائی ہیں۔یا ایسے زمانے میں لکھی گئی تھی کہ لوگ آیا جایا کرتے تھے۔ایسے وقت میں یہ الہامات شائع ہوئے اور کئی ایک زبانوں میں عربی، فارسی، اردو، انگریزی، عبرانی سب زبانوں میں الہامات ہوئے۔یہ اس لیے ہوا کہ ہر ایک زبان گواہ رہے اور اس کتاب کی عظمت ہو۔اور اس میں یہ بھی ایک راز معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک زبان کے لوگ گواہ ہوں گے اور اس جماعت میں داخل ہوں گے۔اگر دنیا میں یہ باتیں انسان اپنی طاقت سے بنا سکتا تو اس کی نظیر کہاں ہے؟ اگر یہ ہو سکتا اور انسان کر سکتا تو تمام انبیاء کی پیشگوئیاں اور خوارق ایک شبہ میں پڑ جاتیں۔مگر بات یہ ہے کہ ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔ہر نبی کے وقت میں ابتلاء آئے اور اب بھی وہی سنّت اللہ جاری ہے۔مجدّد صاحب نے بھی ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو علماء اس کا مقابلہ کریں گے اور اس کی تکذیب کریں گے۔جماعت کو صبر کی تلقین فرمایا۔صبر بڑا جو ہر ہے۔جو شخص صبر کرنے والا ہوتا ہے اور غصے سے بھر کر نہیں بولتا اس کی تقریر اپنی نہیں ہوتی بلکہ خدا اس سے تقریر کراتا ہے۔جماعت کو چاہیے کہ صبر سے کام لے اور مخالفین کی سختی پر سختی نہ کرے اور گالیوں مومن میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوت جذب رکھی ہے۔سعید لوگ اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں اور غیرسعید لوگ بھی سلسلہ حقہ کی خدمت میں لگائے جاتے ہیں۔ان کے سپرد یہ خدمت کی جاتی ہے کہ سلسلہ حقہ کی مخالفت میں شور و غوغا مچا کر اس کی تشہیر کریں اور اس کی تبلیغ کو دور تک پہنچاویں۔مومن میں قوت جاذبہ ضرور ہوتی ہے۔جب میں براہین لکھتا تھا تو یہ الہام ہوا تھا کہ ہر ایک دور کے راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔اس وقت ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ تھا۔اور یہ کتاب وہ ہے جو ہرایک فرقہ عیسائی، ہندو، برہمو، آریہ اور سب مخالفین کے پاس ہے۔مولوی محمد حسین نے اس پر بڑا ریویو لکھا تھا۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ پیشگوئیاں ہم نے بنائی ہیں۔یا ایسے زمانے میں لکھی گئی تھی کہ لوگ آیا جایا کرتے تھے۔ایسے وقت میں یہ الہامات شائع ہوئے اور کئی ایک زبانوں میں عربی، فارسی، اردو، انگریزی، عبرانی سب زبانوں میں الہامات ہوئے۔یہ اس لیے ہوا کہ ہر ایک زبان گواہ رہے اور اس کتاب کی عظمت ہو۔اور اس میں یہ بھی ایک راز معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک زبان کے لوگ گواہ ہوں گے اور اس جماعت میں داخل ہوں گے۔اگر دنیا میں یہ باتیں انسان اپنی طاقت سے بنا سکتا تو اس کی نظیر کہاں ہے؟ اگر یہ ہو سکتا اور انسان کر سکتا تو تمام انبیاء کی پیشگوئیاں اور خوارق ایک شبہ میں پڑ جاتیں۔مگر بات یہ ہے کہ ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔ہر نبی کے وقت میں ابتلاء آئے اور اب بھی وہی سنّت اللہ جاری ہے۔مجدّد صاحب نے بھی ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو علماء اس کا مقابلہ کریں گے اور اس کی تکذیب کریں گے۔جماعت کو صبر کی تلقین فرمایا۔صبر بڑا جو ہر ہے۔جو شخص صبر کرنے والا ہوتا ہے اور غصے سے بھر کر نہیں بولتا اس کی تقریر اپنی نہیں ہوتی بلکہ خدا اس سے تقریر کراتا ہے۔جماعت کو چاہیے کہ صبر سے کام لے اور مخالفین کی سختی پر سختی نہ کرے اور گالیوں مومن میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوت جذب رکھی ہے۔سعید لوگ اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں اور غیرسعید لوگ بھی سلسلہ حقہ کی خدمت میں لگائے جاتے ہیں۔ان کے سپرد یہ خدمت کی جاتی ہے کہ سلسلہ حقہ کی مخالفت میں شور و غوغا مچا کر اس کی تشہیر کریں اور اس کی تبلیغ کو دور تک پہنچاویں۔مومن میں قوت جاذبہ ضرور ہوتی ہے۔جب میں براہین لکھتا تھا تو یہ الہام ہوا تھا کہ ہر ایک دور کے راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔اس وقت ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ تھا۔اور یہ کتاب وہ ہے جو ہرایک فرقہ عیسائی، ہندو، برہمو، آریہ اور سب مخالفین کے پاس ہے۔مولوی محمد حسین نے اس پر بڑا ریویو لکھا تھا۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ پیشگوئیاں ہم نے بنائی ہیں۔یا ایسے زمانے میں لکھی گئی تھی کہ لوگ آیا جایا کرتے تھے۔ایسے وقت میں یہ الہامات شائع ہوئے اور کئی ایک زبانوں میں عربی، فارسی، اردو، انگریزی، عبرانی سب زبانوں میں الہامات ہوئے۔یہ اس لیے ہوا کہ ہر ایک زبان گواہ رہے اور اس کتاب کی عظمت ہو۔اور اس میں یہ بھی ایک راز معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک زبان کے لوگ گواہ ہوں گے اور اس جماعت میں داخل ہوں گے۔اگر دنیا میں یہ باتیں انسان اپنی طاقت سے بنا سکتا تو اس کی نظیر کہاں ہے؟ اگر یہ ہو سکتا اور انسان کر سکتا تو تمام انبیاء کی پیشگوئیاں اور خوارق ایک شبہ میں پڑ جاتیں۔مگر بات یہ ہے کہ ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔ہر نبی کے وقت میں ابتلاء آئے اور اب بھی وہی سنّت اللہ جاری ہے۔مجدّد صاحب نے بھی ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو علماء اس کا مقابلہ کریں گے اور اس کی تکذیب کریں گے۔جماعت کو صبر کی تلقین فرمایا۔صبر بڑا جو ہر ہے۔جو شخص صبر کرنے والا ہوتا ہے اور غصے سے بھر کر نہیں بولتا اس کی تقریر اپنی نہیں ہوتی بلکہ خدا اس سے تقریر کراتا ہے۔جماعت کو چاہیے کہ صبر سے کام لے اور مخالفین کی سختی پر سختی نہ کرے اور گالیوں کے عوض میں گالی نہ دے۔جو شخص ہمارا مکذب ہے اس پر لازم نہیں کہ وہ ادب کے ساتھ بولے۔اس کے نمونے آنحضرت کی زندگی میں بھی بہت پائے جاتے ہیں۔صبر جیسی کوئی شے نہیں۔مگر صبر کرنا