ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 40

مسیح موعود علیہ السلام کے معجزات طالب علم۔معجزہ تو نبی کا ہوتا ہے۔آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ میں معجزہ دکھاتا ہوں؟ حضرت۔ہمارے معجزات سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں۔ہمارا اپنا کچھ نہیں۔سب کاروبار آنحضرت کا ہی چلا آتا ہے۔دین انحطاط پر تھا ہم نے سعی کی۔اگر ہم خدا کی طرف سے ہیں تو خدا ہماری مدد کرے گا۔ورنہ یہ سلسلہ خود بخود ہی تباہ ہو جائے گا۔مسیح موعود کی بعثت کا مقصد ہمارے دو کام ہیں۔اول یہ کہ اعتقاد میں نصوص کے برخلاف جو غلطیاں پڑ گئی ہیں وہ نکالی جاویں۔دوم یہ کہ لوگوں کی عملی حالتیںدرست کی جائیں اور صحابہ کے مطابق ان کو تقویٰ اور طہارت حاصل ہوجائے۔طالب علم۔کیا پہلے بھی کسی نے دعویٰ کیا تھا کہ میں اسلام میں نبی ہوں؟ حضرت۔پہلے کس طرح کوئی دعویٰ کر سکتا۔وہ لوگ مامور نہ تھے کہ ایسا دعویٰ کریں اورمیں مامور ہوں۔طالب علم۔آپ کے مخالف کو کافر کیوں کہا جائے گا؟ حضرت۔کفر کے معنے ہیں انکار کرنا۔جب یہ لوگ مامور من اللہ کو نہیں مانتے اور گالیاں دیتے ہیں اور انکار کرتے ہیں تو بات یہاں تک نہیں رہتی بلکہ ایک فتح الباب ہوتا ہے اور زبان کھل جاتی ہے اور رفتہ رفتہ توفیق اعمال کی جاتی رہتی ہے۔۱ جب تک استقامت نہ ہو بیعت نا تمام ہے ایک شخص نے بیعت کی۔فرمایا۔خدا تعالیٰ ثابت قدم رکھے۔ثابت قدمی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے حاصل ہو سکتی ہے۔جب تک استقامت نہ ہو بیعت بھی ناتمام ہے۔انسان جب خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو راستہ میں بہت سی بلاؤں اور طوفانوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔جب تک ان میں سے انسان گذر نہ لے منزلِ مقصود کو پہنچ نہیں سکتا۔امن کی ۱ بدر جلد ۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۶؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲تا۴