ملفوظات (جلد 8) — Page 317
پکڑ لو۔سعادت اسی میں ہے۔وکیل بابا۔زندہ رسول کے موافق ہو تو مان لیں۔میں آپ کو مجدد بھی نہیں مان سکتا۔حضرت اقدس۔پھر سہل راہ یہ ہے کہ مباہلہ کر لو۔وکیل بابا۔میں موجود ہوں۔حضرت اقدس۔یہ تو آپ بھی جانتے ہوں گے کہ سادہ لوح کی تکذیب کچھ چیز نہیں۔اس لیے پہلے ضروری ہے کہ آپ پر اتمامِ حجت ہولے۔میں نے ایک کتاب حقیقۃ الوحی لکھی ہے۔آپ اس کو خوب غور سے پڑھ لیں اور میرے دلائل پر غور کر لیں۔اس کے بعد بھی اگر بعد امتحان آپ میری تکذیب کریں تب آپ کو مباہلہ کا اختیار ہے۔وکیل بابا۔بہت اچھا میں تعمیل کروں گا۔اور اس وقت بار بار کہتا تھا کہ میں جھوٹا ہوں تو میرا مرنا ہی بہتر ہے۔اس کے بعد مباہلہ کے لیے مندرجہ ذیل اقرار نامہ لکھا گیا۔مباہلہ کے لیے اقرار نامہ جو حکیم مولوی محمد یوسف صاحب سیاح سے ۲۸؍اکتوبر ۱۹۰۶ء کو قبل ظہر ہوا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ مباہلہ سے پہلے کتاب حقیقۃ الوحی کو آپ پڑھ لیں اور خوب غور سے سمجھ لیں۔اس کے بعد بھی اگر آپ میری تکذیب کریں تو مباہلہ ہوگا مگر پہلے دس سوال اس کتاب سے کروں گا۔ان کے جواب لوں گا تاکہ معلوم ہو آپ نے سمجھ لیا ہے جو دس سوال میں کروں گا ان کا جواب انہیں الفاظ میں دینا ہوگا جو میں نے لکھے ہیں اور پھر ایک شخص اس وقت لکھتا جاوے گا اور کتاب سے مقابلہ ہوگا۔اگر موافق نہ ہوا تو پھر کتاب دیکھنی ہوگی اور پھر اس طرح پر دس سوال ہوں گے۔مکرر یہ بات یاد رہے کہ دس سوالوں سے مراد میری یہ ہے کہ متفرق مقامات کتاب حقیقۃ الوحی سے دس طور کی باتیں میں مولوی حکیم محمد یوسف صاحب سے دریافت کروں گا اور یہ ایک لازمی امر