ملفوظات (جلد 8) — Page 318
ہوگا کہ ہر ایک سوال کا کتاب کے موافق پورا پورا جواب دیں۔کسی حصہ میں کمی نہ ہو۔اور اگر کسی جواب کے دینے میں پورا جواب نہ پایا جاوے تو پھر لازم ہوگا کہ دوبارہ کتاب کو اوّل سے آخر تک دیکھیں اور پھر نئے دس سوال انتخاب کئے جاویں گے۔اگر اس میں بھی کسی جواب کے دینے میں کمی ہو تو یہی قاعدہ جاری رہے گا جب تک دس سوال کا پورے طور پر جواب نہ دیں۔حکیم مولوی محمد یوسف صاحب نے یہ بھی اقرار کیا کہ وہ کتاب پڑھ کر جب اس غرض کے لیے آئیں گے تو وہ دن اس مطلب کے لیے شمار نہ ہوگا اور وہ خود اس مطلب کے لیے آئیں گے۔اس کتاب کے پورے دیکھنے سے ایک دن پہلے ہمیں اطلاع دیں تاکہ سوالات کے انتخاب کے لیے وقت مل سکے۔المعتصم بحبل الفتاح سید محمد یوسف سیاح بقلم ۲۸؍اکتوبر دستخط ہندی بابا چٹو مرزا غلام احمد عفی عنہ گواہ شد : خواجہ کمال الدین وکیل۱ بلا تاریخ۲ حقیقی مسلمان کا مقصد حقیقی مسلمان کا یہ مقصد نہیں ہوا کرتا کہ اس کو خوابیں آتی رہیں بلکہ اس کا مقصد تو ہمیشہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے اور جہاں تک اس کی طاقت اور ہمت میں ہے اس کو راضی کرنے کی سعی کرے۔اگرچہ یہ سچ ہے کہ یہ بات نرے مجاہدہ اور سعی سے نہیں ملتی بلکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق پر موقوف ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ رحیم کریم ایسا ہے کہ اگر کوئی اس کی طرف بالشت بھر آتا ہے تو وہ ۱الحکم جلد ۱۱ نمبر ۵ مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۲،۳ ۲ اس ڈائری پر کوئی تاریخ درج نہیں۔آخر میں ایڈیٹر صاحب الحکم نے ’’پرانی یاد داشت سے‘‘ کے الفاظ لکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرانے ملفوظات ہیں۔واللہ اعلم بالصواب( مرتّب)