ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 316

افترا کر سکتا ہوں۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مفتری نہیں ہوں۔مجھے خدا تعالیٰ نے اس صدی پر امام بنا کر بھیجا ہے اور اپنے وعدوں کے موافق بھیجا ہے اور مَیں اس میں آپ پر جبر نہیں کرتا کہ آپ ضرور اس کو مان لیں کیونکہ قرآن مجید میں تو یہ حکم ہے لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ (البقرۃ:۲۵۷) ہاں یہ سچ ہے کہ میں یہ حق رکھتا ہوں کہ اپنے دعویٰ کی سچائی پر دلائل پیش کروں اور اسی لیے میں نے کہا تھا کہ جن دلائل سے قرآن مجید کا کلام الٰہی ہونا ثابت ہوتا ہے اسی طرح پر میرا ثبوت ہے مگر آپ وہ طرزِ استدلال پیش نہیں کرتے اور میری بات سنتے نہیں پھر میں کیا کروں۔میں پھر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں روشن دلائل دیئے ہیں۔انہیں ہم ایک ترازو میں رکھتے ہیں اور دوسری طرف ان دلائل کو رکھتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کی سچائی کے دلائل ہیں پھر یہ دونوں پلڑے برابر ہوں گے۔میں جس طرح کتاب اللہ کو مانتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فی الواقع نازل ہوئی ا سی طرح پر میں اس وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ پر اترتی ہے میں اس کو خدا ہی کا کلام اور خالص کلام یقین کرتا ہوں۔میں قرآن شریف کا ایک خادم ہوں اور یہ وحی جو مجھ پر اترتی ہے یہ قرآن شریف کی سچائی کا ایک روشن ثبوت ہے۔نبوت کے فقط یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے کلام کرے اورقدرتی معجزات دکھائے یہ آپ کا حق ہے کہ قرآن شریف سے اس کے معارض ثابت کریں۔میں پھر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا وہ کلام جو مجھ پراترتا ہے میں اس پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسے قرآن شریف پر یعنی جیسے قرآن شریف خدا تعالیٰ ہی کا کلام ہے وہ وحی بھی اسی کی طرف سے ہے۔وکیل بابا۔میں اس امر میں آپ کی تکذیب کرتا ہوں۔اگر تکذیب نہ کرتا تو آپ کی بیعت کر لیتا۔حضرت اقدس۔تو کیا پھر آپ مجھے مفتری علی اللہ سمجھتے ہیں؟ وکیل بابا۔نہیں میں نہیں کہتا کیونکہ لَا تَسُبُّوْا پر میرا عمل ہے۔حضرت اقدس۔میں آپ سے اور کچھ نہیں کہتا بجز اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن