ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 313

حضرت اقدس۔اب آپ نے ایک اور دعویٰ کر دیا۔اچھا آپ یہ تو بتائیں کہ کوئی دعویٰ بلا دلیل تو نہیں ہوا کرتا۔آپ یہ امر ثابت کریں کہ یہودی جو اس وقت موجود ہیں۔وہ توریت کا درس کرتے ہیں یا قرآن شریف کا؟ اور قرآن شریف ان پر توریت کے ذریعہ اتمامِ حجت کرتا ہے یا نہیں؟ ایسا ہی عیسائیوں کے پاس انجیل موجود ہے۔کیا وہ اس انجیل کو پڑھتے ہیں یا قرآن شریف کو؟ آپ کے اس دعویٰ کا کیا مطلب ہے؟ اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ کیا یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس توریت اور انجیل کے سوا یہ قرآن بھی تھا؟ بابا چٹو۔نہیں۔ان کے پاس تو قرآن تو نہ تھا مگر نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وہ بھی کرتے تھے۔حضرت اقدس۔پھر کیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ ان پر بھی قرآن شریف اترا تھا؟ یہ تو سچ ہے کہ بعض احکام مشترکہ چلے آئے ہیں اور بعض احکام ایسے ہوتے ہیں کہ ایک امت اور قوم کے لیے خاص ہوتے ہیں۔جیسے یہودیوں میں اونٹ کا گوشت کھانا یا بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا۔اور ابھی بہت سے احکام ایسے دونوں قوموں میں ہیں جو ان کے لیے مخصوص تھے۔انبیاء علیہم السلام کی تعلیم وقت اور موقع کے حسبِ حال ہوتی ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت چونکہ ہر قسم کے فساد کمال تک پہنچ چکے تھے اس لیے ان کی اصلاح کےلیے جو تعلیم دی گئی وہ کامل تھی۔یہی وجہ ہے کہ خاتم الکتب قرآن مجید نازل ہوا۔اور آپ پر نبوت ختم ہوگئی۔حضرت اقدس اس موقع پر بھی لنبی تقریر کرنا چاہتے تھے مگر افسوس بابا چٹو کی جلد بازی نے پھر انہیںقطع کلام پر دلیر کر دیا اور جھٹ بول اٹھے کہ میں چاہتا ہوں کہ بیعت سے محروم نہ ہوں۔حضرت اقدس۔یہ تو خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔وہ جس کو چاہے ہدایت دے یہ میرا کام نہیں۔ہاں میں اپنی سچائی کا ثبوت دے سکتا ہوں اور ایسا ثبوت دے سکتا ہوں جو انسانی طاقت سے بالا تر ہو اور جس کی نظیر پہلے انبیاء اور مرسلین کے سوا نہ ملتی ہو۔