ملفوظات (جلد 8) — Page 314
بابا چٹو۔ہاں ٹھیک ہے۔حضرت اقدس۔پھر قصہ مختصر ہے۔یہ جملہ بالطبع چاہتا ہے کہ حضرت اقدس اب اپنے ثبوت دعویٰ پر دلائل بیان کریں۔مگر سید محمد یوسف صاحب کو جو چیز اندر ہی اندر دکھ دے رہی تھی وہ باہر نکلے بغیر رہ نہیں سکتی تھی اور ان کا مقصد یہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کے جبّہ و دستار کی فضیلت جاتی رہے گی اگر اس موقع پر انہوں نے کلام نہ کیا۔اس لیے وہ بے اختیار ہو کر بولے۔بابا صاحب آپؑکا سوال نہیں سمجھے۔میں جواب دیتا ہوں۔اس پر بابا چٹو نے کہا کہ ہاں مولوی صاحب بیان کریں گے۔اس لیے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کو اختیار ہے کہ یہ بیان کریں۔۱ جب مولوی سید محمد یوسف صاحب اسی سلسلہ گفتگو میں داب مجلس کے خلاف دخل در معقول دینے لگے تو پھر سلسلہ کلام بابا چٹو کے اشارے سے یوں شروع ہوا۔وکیل بابا چٹو۔آپ کا سوال یہ ہے کہ قرآن کو ہم نے کیونکر مانا۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کو ہم نے اس لیے مانا کہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے۔حضرت اقدس۔یہ تو عجیب دلیل ہے۔اس طرح پر تو ہر شخص اپنی کتاب اور اپنے مذہب کی حقانیت آسانی سے ثابت کر سکتا ہے۔صرف یہ کہہ کر کہ میں ہندوؤں یا عیسائیوں کے گھر میں پیدا ہوا ہوں۔آپ کی اس دلیل میں اور قرآن مجید کے مقابلہ میں مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا (المائدۃ:۱۰۵) کہنے والوں میں کیا فرق ہے؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟ وکیل بابا چٹو۔جب سب مسلمان قرآن کو متفق طور پر مانتے ہیں پھر اس کے لیے کسی اور دلیل کی حاجت ہی نہیں۔حضرت اقدس۔یہ تو خوب جواب ہے۔جو شخص مسلمانوں کے گھر میں پیدا نہ ہوا ہو کیا اس کو بھی یہی دلیل ۱ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۴،۱۵