ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 312

متوجہ پایا تو پھر آپ سے سلسلہ کلام شروع کیا۔وہ مکالمہ درج ذیل ہے۔بابا چٹو۔قرآن سے اپنا دعویٰ پیش کریں۔حضرت اقدس۔میرا دعویٰ انہیں دلائل سے ثابت ہے جن سے قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام ثابت ہوتا ہے پس پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ نے قرآن شریف کو کیوں مانا ہے؟ جو طریق آپ پیش کریں گے اسی طرح پر میرا دعویٰ ثابت ہوجائے گا۔بابا چٹو۔قرآن کو تو اسی طرح مانا ہے جس طرح خدا کو مانا ہے۔حضرت اقدس۔آخر وہ صورت بھی تو آپ بتائیں کہ کس طرح مانا ہے؟ خدا تعالیٰ تو اپنی قدرتوں سے شناخت ہوا ہے مگر قرآن شریف کے ماننے کے وجوہات آپ کے پاس کیا ہیں؟ نرا زبان سے کہہ دینا کہ میں اس کو خدا تعالیٰ کا کلام مانتا ہوں دوسرے کی تسلی کا موجب تو نہیں ہوا کرتا۔ہر نبی اور رسول جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا کرتا ہے وہ یہی اپنے صدق دعویٰ کے دلائل اور نشانات رکھا کرتا ہے۔یونہی اگر اس کے کہنے ہی پر ماننے والے ہوں تو پھر دلائل کیوں پوچھیں؟ اس لیے دلائل ہوتے ہیں۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ لوگ نری منقولی باتوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی سچائی کے لیے ان کی تائید میں خارق عادت نشانات ظاہر فرماتا ہے۔پھر ان نشانات سے بھی فائدہ اٹھانے والے سب نہیں ہوتے۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے دلائل کچھ تھوڑے تھے؟ مگر پھر بھی یہودیوں اور عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو (معاذ اللہ ) جھوٹا کہہ دیا۔ان کی تو کتابوں میں بھی آپ کی پیشن گوئیاں موجود تھیں۔اسی طرح پر میری سچائی ثابت ہوسکتی ہے لیکن اس کے لیے اصل اور آسان راہ وہی ہے جو آپ ان دلائل کو پیش کریں جن سے آپ نے قرآن شریف کو قبول کیا ہے۔(حضرت حجۃ اللہ اس طرز پر کلام فرما رہے تھے کہ بابا چٹو نے اپنی عمر اور آداب مجلس کا کچھ بھی لحاظ نہ کر کے آپ کا قطع کلام کیا اور درمیان ہی میں بول اٹھے کہ مجھے یہی علم پہنچا ہے کہ سب نبیوں پر قرآن نازل ہوا تھا)