ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 311

عزت کے لیے اور اس کی اپنی اصلاح کے لیے۔دیکھو! ماں بچے کو بعض وقت مارتی بھی ہے اور سخت مارتی ہے۔دوسرا دیکھنے والا کہہ سکتا ہے کہ کیسی بے دردی سے مار رہی ہے مگر وہ اس سے ناواقف ہے کہ اس کی شفقت کا اندازہ کر سکے۔اگر ماں کی محبت اور ہمدردی کی اسے خبر ہوتی تو وہ ایسا وہم نہ کرتا۔کیا یہ سچ نہیں کہ اگر بچے کو ذرا بھی درد ہو تو ماں ساری رات بے قرار رہتی اور اس کی خدمت گذاری میں گذار دیتی ہے۔دوسرا کون ہے جواس شفقت اور ہمدردی کا مقابلہ کر سکے۔اسی طرح پر نبی کی سختی ہوتی ہے اس کے دل میں ایک درد اور کوفت ہوتی ہے خدا کی مخلوق کی اصلاح کے لیے۔وہ چاہتا ہے کہ خدا کے عذاب سے بچ جاوے۔اگر اپنے کسی خادم پر سختی کرتا ہے تو شفیق ماں کی طرح راتوں کواٹھ اٹھ کر دعائیں بھی تو اسی کے لیے کرتا ہے۔غرض ماں باپ اور شفیق اوستاد کی سختی سختی نہیں وہ تو عین رحمت اور شفقت ہے۔ایسا ہی عادل بادشاہ کی سختی بھی سختی نہیں۔نادانی سے لوگ اعتراض کر اٹھتے ہیں اور شور مچاتے ہیں عادل بادشاہ ہمیشہ اپنی رعایا کی بھلائی اور خیر خواہی چاہتا ہے۔میں بار بار یہی کہوں گا کہ نفس پرستی کی شیخی خدا تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں ہے اس لیے اس قسم کے نزاعوں کو یکدم چھوڑنا چاہیے۔۱ یاد رکھو! اگر ایک بھی راستباز ہوگا وہ ہزاروں کو اپنی طرف کھینچ لائے گا اور راستباز وہ ہے جو اس کے اور اس کے نفس کے درمیان ہزاروں کوس کا فاصلہ ہو۔مذہب کی جڑ یہی ہے۔تقویٰ اور خدا ترسی اور مذہب یہی ہے۔دوکانداری کا نام دین نہیں ہے۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کی صداقت کے دلائل اس تقریر کے دوران ہی میں شیخ صاحب بھی تشریف لے آئے اور جب حضرت اقدس کو اپنی طرف ۱ اس مقام پر حضرت حجۃ اللہ پہنچے تھے ایک بھائی نے فوراً ہی اپنے دوسرے بھائی سے السلام علیکم کہہ کر ہاتھ ملا لیا اور صلح کر لی۔جزاھم اللہ احسن الجزاء(ایڈیٹر ) ۲الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳