ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 310

میں سے کسی کو بھی شکایت باقی نہ رہے گی اس پر حضور نے عام طور پر فرمایا۔میں صلح کو پسند کرتا ہوں اور جب صلح ہوجاوے پھر اس کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہیے کہ اس نے کیا کہا یا کیا کیا تھا۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص جس نے مجھے ہزاروں مرتبہ دجّال اور کذاب کہا ہو اور میری مخالفت میں ہر طرح کوشش کی ہو اور وہ صلح کا طالب ہو تو میرے دل میں خیال بھی نہیں آتا اور نہیں آسکتا کہ اس نے مجھے کیا کہا تھا اور میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ہاں خدا تعالیٰ کی عزت کو ہاتھ سے نہ دے۔یہ سچی بات ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کو فائدہ پہنچے اس کو کینہ ور نہیں ہونا چاہیے اگر وہ کینہ ور ہو تو دوسروں کو اس کے وجود سے کیا فائدہ پہنچے گا؟ جہاں ذرا اس کے نفس اور خیال کے خلاف ایک امر واقع ہوا وہ انتقام لینے کو آمادہ ہوگیا۔اسے تو ایسا ہونا چاہیے کہ اگر ہزاروں نشتروں سے بھی مارا جاوے پھر بھی پروا نہ کرے۔میری نصیحت یہی ہے کہ دو باتوں کو یاد رکھو۔ایک خدا تعالیٰ سے ڈرو۔دوسرے اپنے بھائیوں سے ایسی ہمدردی کرو جیسی اپنے نفس سے کرتے ہو۔اگر کسی سے کوئی قصور اور غلطی سرزد ہوجاوے تو اسے معاف کرنا چاہیے نہ یہ کہ اس پر زیادہ زور دیا جاوے اور کینہ کشی کی عادت بنا لی جاوے۔نفس انسان کو مجبور کرتا ہے کہ اس کے خلاف کوئی امر نہ ہو اور اس طرح پر وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تخت پر بیٹھ جاوے اس لیے اس سے بچتے رہو۔میں سچ کہتا ہوں کہ بندوں سے پورا خُلق کرنا بھی ایک موت ہے۔میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ اگر کوئی ذرا بھی کسی کو توں تاں کرے تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاوے۔بلکہ میں تو اس کو پسند کرتا ہوں اگر کوئی سامنے بھی گالی دے دے تو صبر کر کے خاموش ہو رہے۔انبیاء کی سختی بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ نبی بعض اوقات سختی کرتے ہیں وہ اس امر کو سمجھ نہیں سکتے کہ ان کی سختی کا رنگ اَور ہے۔اس میں کینہ ملا ہوا نہیں ہوتا وہ اپنے نفس کے لیے نہیں کرتے۔اس میں کوئی ذاتی غرض ان کی مدّ نظر نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی