ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 307

دوکان پر بیٹھا تھا اچانک موت آگئی۔دوسرے لوگوں نے ذکر کیا کہ نیک آدمی تھا۔دنیاوی دھندوں جھگڑوںکے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا علیحدہ رہتا تھا۔حضرت نے فرمایا۔وہ تو دنیوی تعلقات پہلے ہی چھوڑ کر اور ہجرت کر کے قادیان میں آبسا تھا۔۱ بلا تاریخ۲ نماز میں بے حضوری کا علاج ایک شخص نے سوال کیا کہ جب میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو مجھے حضور قلب حاصل نہیں ہوتا۔کیا اس صورت میں میری نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ انسان کی کوشش سے جو حضور قلب حاصل ہو سکتا ہے وہ یہی ہے کہ مسلمان وضو کرتا ہے اپنے آپ کو کشاں کشاں مسجد تک لے جاتا ہے نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔یہاں تک انسان کی کوشش ہے اس کے بعد حضورِ قلب کا عطا کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔انسان اپنا کام کرتا ہے۔خدا تعالیٰ بھی ایک وقت پر اپنی عطا نازل کرتا ہے۔نماز میں بے حضوری کا علاج بھی نماز ہی ہے۔نماز پڑھتے جاؤ۔اسی سے سب دروازے رحمت کے کھل جاویں گے۔۳ ۲۸؍اکتوبر۱۹۰۶ء (صبح کی سیر) قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ معلوم کر کے کہ ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴ ۲غالباً اکتوبر۱۹۰۶ء کے ابتدائی ایام کے یہ ملفوظات ہیں۔واللہ اعلم بالصواب (مرتّب) ۳بدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ۱۳