ملفوظات (جلد 8) — Page 306
تاکہ ان کی تحریر اور تقریر کا دوسروں پر اثر بھی ہو سکے۔ایک آدمی جس کے دل میں یہ بات ہو کہ خدا کے واسطے کام کرے وہ کروڑوں آدمی سے بہتر ہے۔مولوی سید محمد احسن صاحب فرمایا۔مولوی سید محمد احسن صاحب بحث مباحثہ کے کام میں اور مناظرہ میں یکتا ہیں۔وہ پورے تحصیل یافتہ ہیں۔علم حدیث اور علم فقہ کے بڑے ماہر ہیں۔مخالف مولویوں کے مقابلہ میں سلسلہ تصانیف کا کام خوب کر سکتے ہیں۔ہر شخص کا کام نہیں کہ ایسے امور میں مداخلت کرے۔کلام پڑھ کر پھونکنا ایک دوست نے سوال کیا کہ مجھے قرآن شریف کی کوئی آیت بتلائی جاوے کہ میں پڑھ کر اپنے بیمار کو دم کروں تاکہ اس کو شفا ہو۔حضرت نے فرمایا۔بیشک قرآن شریف میں شفا ہے۔روحانی اور جسمانی بیماریوں کا وہ علاج ہے مگر اس طرح کے کلام پڑھنے میں لوگوں کو ابتلا ہے۔قرآن شریف کو تم اس امتحان میں نہ ڈالو۔خدا تعالیٰ سے اپنے بیمار کے واسطے دعا کرو۔تمہارے واسطے یہی کافی ہے۔۱ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صاحب نور کابلی رضی اللہ عنہ صاحب نور مرحوم کا ذکر تھا۔حضرت نے احمدنور۲ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ خدا اس کو بہشت نصیب کرے۔میں اس کی اچانک موت کی خبرسن کر صدمہ سے خود بیمار ہوگیا تھا اس واسطے جنازہ پڑھنے کے واسطے باہر نہ آسکا۔مولوی احمد نور صاحب نے ذکر کیا کہ رات بھر قرآن شریف پڑھتا رہا تھا اور صبح کو بالکل تندرست ۱بدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴ ۲یہ صاحب نور مرحوم کے بھائی تھے۔یہ دونوں بھائی صاحبزادہ عبد اللطیف شہیدؓ کے مرید تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا کر ہجرت کر کے قادیان میں مقیم ہوگئے۔(مرتّب)