ملفوظات (جلد 8) — Page 308
لاہور سے شیخ محمد چٹو۱ آئے ہیں اور احباب بھی آئے ہیں۔محض اپنے خلق عظیم کی بنا پر باہر نکلے۔غرض یہ تھی کہ باہر سیر کو نکلیں گے۔احباب سے ملاقات کی تقریب ہوگی۔چونکہ پہلے سے لوگوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ حضرت اقدس باہر تشریف لائیں گے اس لیے اکثر احباب چھوٹی مسجد میں موجود تھے۔جب حضرت اقدس اپنے دروازے سے باہر آئے تو معمول کے موافق خدام پروانہ وار آپ کی طرف دوڑے۔آپ نے شیخ صاحب کی طرف دیکھ کر بعد سلام مسنون فرمایا۔حضرت اقدس۔آپ اچھی طرح سے ہیں؟ آپ تو ہمارے پرانے ملنے والوں میں سے ہیں۔بابا چٹو۔شکر ہے۔حضرت اقدس۔(حکیم محمد حسین قریشی کو مخاطب کرکے) یہ آپ کا فرض ہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ان کے کھانے اور ٹھہرنے کا پورا انتظام کر دو۔جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے کہو اور میاں نجم الدین کو تاکید کر دو کہ ان کے کھانے کے لیے جو مناسب ہو اور یہ پسند کریں وہ طیار کرے۔حکیم محمد حسین۔بہت اچھا حضور۔انشاء اللہ کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔حضرت اقدس۔(بابا چٹو کو خطاب کر کے) آپ تو مسافر ہیں۔روزہ تو نہیں رکھا ہوگا؟ بابا چٹو۔نہیں مجھے تو روزہ ہے میں نے رکھ لیا ہے۔حضرت اقدس۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لیے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہیے۔میں نے پڑھا ہے کہ اکثر اکابر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے۔کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔اس نے تو یہی حکم دیا ہے مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ ۱ پہلے یہ فرقہ اہلحدیث میں شامل تھے۔بعد میں چکڑالوی مسلک اختیار کر لیا۔حضور کی خدمت میں جب آئے تو چکڑالوی تھے۔(مرتّب)