ملفوظات (جلد 8) — Page 305
ہوتے۔لوگ کہتے ہیں کہ وہ حرمین کی حفاطت کرتا ہے یہ غلط ہے بلکہ حرمین اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ورنہ وہ کرتا ہی کیا ہے؟ آج تک بدوؤں تک کا انتظام نہیں کر سکا۔ہر سال غریب حاجی اس کثرت کے ساتھ قتل کئے جاتے ہیں اور لوٹے جاتے ہیں اور وہ کچھ انسداد نہیں کر سکتا۔اگر اسلامی روحانیت اس میں ہوتی تو وہ اکیلا بیس سلطنتوں کے مقابلہ کے واسطے بھی کافی تھا چہ جائیکہ اب اپنی سلطنت کا سنبھالنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔سب مخلوق خدا تعالیٰ کی ہے اور سب کے دل اس کے قبضہ قدرت میں، اور وہ سب پر غالب ہے۔جو خدا کا بنتا ہے خدا اسے سب پر غالب کر دیتا ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں رہتا۔۱ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۰۶ء جماعتی تصانیف مرکز سے منظور ہوکر شائع ہوں دہلی سے ایک دوست کی تحریری تحریک پیش ہوئی کہ اپنی جماعت کے بہت سے دوست سلسلہ کی تائید میں کتابیں لکھتے ہیں مگر ان کے چھپوانے کا کوئی انتظام نہیں ہوسکتا۔اس واسطے ایک سرمایہ کے ساتھ ایک کمپنی بنانی چاہیے اور ایک کارخانہ مطبع کا بنانا چاہیے جو کہ دہلی میں قائم ہو۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ ہمیں ایسی کمپنی کے بنانے کی ثلج صدر نہیں اور ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا انجام اچھا ہو۔بہت سے لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جو دینی علوم سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ان کی تصنیف بجائے فائدہ کے ضرر رساں ہوتی ہے اس قسم کی تصانیف پہلے قادیان میں آنی چاہئیں اور یہاں لوگ اس کو دیکھیں اور اس پر غور کریں کہ آیا وہ چھپنے کے قابل بھی ہیں یا کہ نہیں۔اوّل تو اس قسم کے آدمی پیدا ہوجانے چاہئیں جو دینی علوم سے پوری واقفیت رکھنے والے ہوں۔عالم باعمل ہوں ۱بدر جلد ۲ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۰۶ءصفحہ ۴