ملفوظات (جلد 8) — Page 274
ہیں۔بلکہ ہمیں افسوس ہے کہ ہم پوری طرح سے آپ کے ساتھ اخلاقِ حسنہ کا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کی قومی رسم کے مطابق ہمارا کھانا کھا لینا جائز نہیں۔ایسے ہندو مہمانوں کے کھانے کے انتظام ہم کسی ہندو کے ہاں کر لیا کرتے ہیں۔لیکن اس کھانے کی ہم خود نگرانی نہیں کر سکتے۔ہمارے اصول میں داخل نہیں کہ اختلاف مذہبی کے سبب کسی کے ساتھ بد خلقی کریں اور بد خلقی مناسب بھی نہیں کیونکہ نہایت کار ہمارے نزدیک غیر مذہب والا ایک بیمار کی مانند ہے جس کو صحت روحانی حاصل نہیں۔پس بیمار تو اور بھی قابل رحم ہے جس کے ساتھ بہت خلق اور حلم اور نرمی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔اگر بیمار کے ساتھ بد خلقی کی جاوے تو اس کی بیماری اور بھی بڑھ جائے گی۔اگر کسی میں کجی اور غلطی ہے تو محبت کے ساتھ سمجھانا چاہیے۔ہمارے بڑے اصول دو ہیں۔خدا کے ساتھ تعلق صاف رکھنا اور اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاق سے پیش آنا۔۱ بلاتاریخ۲ سچے مذہب کی پہچان ایک ہندو نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ سچے مذہب کی کیا شناخت ہے؟ دنیا میں اس قدر مذاہب پھیلے ہوئے ہیں ان میں سے کس طرح شناخت کریں کہ سب سے افضل اور اعلیٰ مذہب قابل قبول کون سا مذہب ہے؟ حضرت نے فرمایا۔جس مذہب میں سب سے زیادہ تعظیم الٰہی اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا سامان ہو وہی سب سے اعلیٰ مذہب ہے۔انسان اسی چیز کی قدر زیادہ کرتا ہے جس کا علم اس کو زیادہ حاصل ہوتا ہے۔مثلاً ایک شخص کو معلوم ہو کہ فلاں مکان میں ایک سانپ پھرتا ہے اور وہ آدمیوں کو کاٹتا ہے تو وہ شخص کبھی جرأت نہ کرے گا کہ رات کو ایسے مکان میں جا کر سوئے۔اگر کسی کو ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ ۲ قیاس ہے کہ شائد جولائی ۱۹۰۶ء کی کسی تاریخ کی یہ ڈائری ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔(مرتّب)