ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 275

معلوم ہوجائے کہ اس کھانے میں جو میرے آگے رکھا ہے زہر ہے تو وہ ہرگز کبھی ایک لقمہ بھی اس کھانے میں سے نہ اٹھائے گا۔اگر کسی گاؤں میں طاعون ہو اور لوگ مر رہے ہوں تو کوئی شخص اس گاؤں میں جانے کا حوصلہ نہیں کرتا۔جس کو معلوم ہو کہ جنگل میں شیر رہتا ہے وہ اس جنگل میں ہر گز داخل نہیں ہوتا۔ان سب کا اصل علم اور معرفت ہے جس چیز کا علم انسان کو بخوبی ہوجاوے اور اس کے متعلق معرفت تام پیدا ہوجاوے انسان اس کے برخلاف بالکل نہیں کر سکتا۔پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ گناہ کو ترک نہیں کرتے؟ اس کا سبب یہی ہے کہ خدا کی ہستی کا کامل علم اور معرفت تام ان کو حاصل نہیں۔یہ جو کہا جاتا ہے اور اقرار کیا جاتا ہے کہ ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں یہ صرف ایک رسمی ایمان ہے ورنہ دراصل گناہ سوز معرفت حاصل نہیں ہے۔اگر وہ حاصل ہو تو ممکن ہی نہیں کہ انسان پھر گناہ کر سکے۔ہر شے کی قدر اس کی پہچان اور معرفت سے ہوتی ہے۔دیکھو! ایک جاہل گنوار کو ایک قیمتی پتھر لعل یا موتی مل جاوے تو وہ حد درجہ اس کو دو چار پیسہ میں فروخت کر دے گا۔یہی مثال ان نادانوں کی ہے جنہوں نے خدا کو نہیں پہچانا وہ الٰہی احکام کے بالمقابل دو چار پیسوں کی زیادہ قدر کرتے ہیں۔جہاں کوئی دنیوی تھوڑا سا فائدہ نظر آتا ہے وہاں اپنا ایمان فروخت کر دیتے ہیں۔جھوٹی گواہیاں عدالتوں میں جا کر دوآنہ یا چار آنہ کے بدلے دیتے ہیں۔ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کے اس پاک حکم کی قدر کہ جھوٹھ نہ بولو اور سچی گواہی دو اس سے بڑھ کر نہیں کہ دو چار آنہ کی خاطر اس کو چھوڑ دیں اور بیچ ڈالیں۔خدا کی آیتوں کو تھوڑے مول پر بیچنے کے یہی معنے ہیں کہ انسان تھوڑے سے ظاہری فائدہ کی خاطر احکام الٰہی کی بے قدری کرتا ہے۔آج کل جو مذاہب لوگوں میں رائج ہیں وہ سب قومی مذاہب ہیں۔یعنی ایک قومیت کی پچ کی جاتی ہے۔ورنہ سچا مذہب وہ ہے جو خدا کے خوف سے شروع ہوتا ہے اور خوف اور محبت کی جڑھ معرفت ہے پس مذہب وہ اختیار کرنا چاہیے جس سے خدا کی معرفت اور گیان بڑھ جائے اور خدا تعالیٰ کی تعظیم دلوں میں بیٹھ جائے۔جس مذہب میں صرف پرانے قصے ہوں وہ ایک مُردہ مذہب ہے۔دیکھو! خدا وہی ہے جو پہلے تھا اس کی عبادت سے جو پھل پہلے لوگ پا سکتے تھے وہی پھل اب بھی پا سکتے ہیں۔