ملفوظات (جلد 8) — Page 273
اختیار کرو۔بدیوں سے بچو۔اپنی اصلاح کرو اور خدا سے ڈرو تاکہ تم مصیبت کے وقت میں بچائے جاؤ اور تم پر رحم کیا جاوے۔اس کے جواب میں یہ لوگ اخباروں میں اور خطوں میں ہم کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور ہر طرح سے ستانے کی کوشش کرتے ہیں اور دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو جھوٹھا ہے اور افترا کرتا ہے مگر ہمارا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو خبر ہم کو دی ہے وہ ہم ان لوگوں کو پہنچا دیں۔ایک شخص ایک گاؤں میں رہنے والا یقیناً جانتا ہے کہ صبح ہوتے یہ گاؤں ہلاک ہوجائےگا۔پھر اگر وہ گاؤں کے رہنے والوں کو اس طوفان سے مطلع نہ کرے تو کیا کرے؟ یہی حال حضرت نوحؑکے زمانہ میں ہوا تھا جبکہ حضرت نوحؑکشتی بناتے تھے تو لوگ ہنستے تھے اور ٹھٹھا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو یہ کیسا دیوانہ ہے کہ خشکی پر شہر میں کشتی بناتا ہے۔مگر وہ نہ جانتے تھے کہ وہ خود ہی غلطی پر ہیں اور حضرت نوحؑکی کارروائی درست اور راست ہے۔اسی طرح آج کل بھی گو امساکِ باراں ہے مگر قسم قسم کے طوفانوں سے اور زلازل سے دنیا پر عذاب آنے والے ہیں۔جیسا کہ پہلے زمانوں کی تمام شرارتیں اور مفاسد آجکل جمع ہوگئے ہیں ایسا ہی پہلے زمانوں میں جو عذاب اور بلائیں متفرق وقتوں میں وارد ہوا کرتی تھیں وہ سب کی سب اب اس زمانہ میں جمع ہوگئی ہیں۔جس قدر قانون بڑھتا جاتا ہے ساتھ ہی فریب اور دھوکہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔سرکار اس واسطے قانون بناتی ہے کہ ملک میں امن پھیلے شریر لوگ اسی قانون میں سے ایک ایسی بات نکالتے ہیں کہ ان کو اپنی شرارت کے پورا کرنے کا اور بھی موقعہ مل جائے۔اگر کوئی کسی کا قرضدار ہوتا ہے تو اسی فکر میں رہتا ہے کہ قرضہ کی میعاد گذر چکی ہے اور نہیں سوچتا کہ خدا کے نزدیک کوئی میعاد نہیں۔غیر مذہب والوں سے خوش خلقی مذکورہ بالا ہندو صاحب نے عرض کیا کہ مجھے تو لوگ ڈراتے تھے کہ مرزا صاحب تو کسی کے ساتھ بات نہیں کرتے اور ہندوؤں کے ساتھ بہت بد خلقی سے پیش آتے ہیں۔میں نے یہ سب بات اس کے برخلاف پائی ہے اور آپ کو اعلیٰ درجہ کا خلیق اورمہمان نواز دیکھا ہے۔حضرت نے فرمایا۔لوگ جھوٹھی خبریں اڑا دیتے ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے وسیع اخلاق سکھلائے