ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 270

جذبات ایسے دب گئے جیسا کہ کافور زہریلی مادوںکو دبا دیتا ہے اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ اس کافوری پیالہ کے بعد وہ پیالے پیتے ہیں جن کی ملونی زنجبیل ہے۔اب جاننا چاہیے کہ زنـجبیل دو لفظ سے مرکب ہے یعنی زَنَا اور جَبَل سے اور زَنَا لغت عرب میں اوپر چڑھنے کو کہتے ہیں اور جبل پہاڑ کو۔اس کے ترکیبی معنے یہ ہیں کہ پہاڑ پر چڑھ گیا۔اب جاننا چاہیے کہ انسان پر ایک زہریلی بیماری کے فرو ہونے کے بعد اعلیٰ درجہ کی صحت تک دو حالتیں آتی ہیں۔ایک وہ حالت جبکہ زہریلی مواد کا جوش بکلّی جاتا رہتا ہے اور خطرناک مادوں کا جوش روباصلاح ہوجاتا ہے اور سمّی کیفیات کا حملہ بخیر و عافیت گذرجاتا ہے اور ایک مہلک طوفان جو اٹھاتھا نیچے دب جاتا ہے لیکن ہنوز اعضاء میں کمزوری باقی ہوتی ہے کوئی طاقت کا کام نہیں ہو سکتا۔ابھی مردہ کی طرح افتاں و خیزاں چلتا ہے۔اور دوسری وہ حالت ہے کہ جب اصل صحت عود کر آتی ہے اور بدن میں طاقت بھر جاتی ہے اور قوت کے بحال ہونے سے یہ حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے کہ بلا تکلف پہاڑ کے اوپر چڑھ جاوے اور نشاطِ خاطرسے اونچی گھاٹیوں پر دوڑتا چلا جاوے۔سو سلوک کے تیسرے مرتبہ میں یہ حالت میسر آتی ہے۔ایسی حالت کی نسبت اللہ تعالیٰ آیت موصوفہ میں اشارہ فرماتا ہے کہ انتہائے درجہ کے باخدا لوگ وہ پیالے پیتے ہیں جن میں زنجبیل ملی ہوئی ہے یعنی وہ روحانی حالت کی پوری قوت پاکر بڑی بڑی گھاٹیوں پر چڑھ جاتے ہیں اور بڑے مشکل کام ان کے ہاتھ سے انجام پذیر ہوتے ہیں اور خدا کی راہ میں حیرت ناک جانفشانیاں دکھلاتے ہیں۔اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ علم طِبّ کی رو سے زنجبیل وہ دوا ہے جسے ہندی میں سونٹھ کہتے ہیں۔وہ حرارتِ غریزی کو بہت قوت دیتی ہے اور دستوں کو بند کرتی ہے اور اس کا زنجبیل اسی واسطے نام رکھا گیا ہے کہ گویا وہ کمزور کو ایسا قوی کرتی ہے اور ایسی گرمی پہنچاتی ہے جس سے وہ پہاڑوں پر چڑھ سکے۔ان متقابل آیتوں کے پیش کرنے سے جن میں ایک جگہ کافور کا ذکر ہے اور ایک جگہ زنجبیل کا خدا تعالیٰ کی یہ غرض ہے کہ تا اپنے بندوں کو سمجھائے کہ جب انسان جذبات نفسانی سے نیکی کی طرف