ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 271

حرکت کرتا ہے تو پہلے پہل اس حرکت کے بعد یہ حالت پیدا ہوتی ہے کہ اس کے زہریلے مواد نیچے دبائے جاتے ہیں اور نفسانی جذبات رو بکمی ہونے لگتے ہیں جیسا کہ کافور سے زہریلے مواد کا جوش بالکل جاتا رہے گا اور ایک کمزور صحت جو ضعف کے ساتھ ملی ہوتی ہے حاصل ہو جاتی ہے تو پھر دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ ضعیف بیمار زنجبیل کے شربت سے قوت پاتا ہے اور زنجبیلی شربت خدا تعالیٰ کے حسن و جمال کی تجلی ہے جو روح کی غذا ہے۔جب اس تجلی سے انسان قوت پکڑتا ہے تو پھر بلند اور اونچی گھاٹیوں پر چڑھنے کے لائق ہوجاتا ہے اور خدا کی راہ میں ایسی حیرت ناک سختی کے کام دکھلاتا ہے کہ جب تک یہ عاشقانہ گرمی کسی کے دل میں نہ ہو ہرگز ایسے کام دکھلا نہیں سکتا۔سو خدا تعالیٰ نے اس جگہ ان دو حالتوں کے سمجھانے کے لیے عربی زبان کے دو لفظوں سے کام لیا ہے۔ایک کافور جو نیچے دبانے والے کو کہتے ہیں اور دوسرے زنجبیل جو اوپر چڑھنے والے کو کہتے ہیں اور اسی راہ میں یہی دو حالتیں سالکوںکے لیے واقعہ ہیں۔۱ ۱۴؍جولائی ۱۹۰۶ء (قبل نماز ظہر) بے ثباتی دنیا ایک معزز خاندانی ہندو دیوان صاحب جو صرف حضرت کی ملاقات کے واسطے قادیان آئے تھے قبل نماز ظہر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خواہش ظاہر کی کہ ان کو کچھ نصیحت کی جائے۔حضرت نے فرمایا۔ہر ایک شخص کا ہمدردی کا رنگ جداہوتا ہے۔اگر آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ آپ کے ساتھ یہی ہمدردی کر سکتا ہے کہ آپ کی کسی بیماری کا علاج کرے اور اگر آپ حاکم کے پاس جائیں تو اس کی ہمدردی یہ ہے کہ کسی ظالم کے ظلم سے بچائے ایسا ہی ہر ایک کی ہمدردی کا رنگ جدا ہے۔ہماری طرف سے ہمدردی یہ ہے کہ ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیںکہ دنیا روزے چند ہے۔اگر یہ خیال دل میں پختہ ہوجائے تو تمام جھوٹھی خوشیاں پامال ہوجاتی ہیں اور ۱بدر جلد ۲ نمبر ۲۶۔۲۷۔۲۸مورخہ ۲۸؍جون و ۵و۱۲؍جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۳