ملفوظات (جلد 8) — Page 269
مقربوں میں سے نہیں شمار ہو سکتے اور ایسا ہی کثرت سے اس قسم کے ابلہ اور سادہ لوح لوگ موجود ہیں جو کوئی گناہ نہیں کرتے نہ چوری، نہ زنا، نہ جھوٹھ، نہ بد کاری، نہ خیانت لیکن ان گناہوں کے نہ کرنے کے سبب وہ مقربانِ الٰہی میں شمار نہیں ہو سکتے۔انسان کی خوبی اس میں ہے کہ وہ نیکیاں اختیار کرے اور خدا کو راضی کرنے کے کام کرے اور معرفتِ الٰہی کے مدارج حاصل کرے اور روحانیت میں ترقی کرے اور ان لوگوں میں شامل ہو جاوے جو بڑے بڑے انعام حاصل کرتے ہیں۔اس کے واسطے قرآن شریف میں دونوں باتوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ایک ترک گناہ اور دوم وصول قربِ الٰہی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ابرار کی دو صفتیں ہیں ایک یہ کہ وہ کافوری شربت پیتے ہیں جس سے گناہوں کے جوش ٹھنڈے ہوجاتے ہیں اور پھر زنجبیلی شربت پیتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کے راہ میں مشکل گھاٹیوںکو طے کرتے ہیں۔وہ آیت کریمہ اس طرح سے ہے اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ يُفَجِّرُوْنَهَا۠ تَفْجِيْرًا (الدّھر:۶،۷) وَ يُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا(الدّھر:۱۸) ایسے لوگ جو خدا میں محو ہیں خدا نے ان کو وہ شربت پلایا ہے جس نے ان کے دل اور خیالات اور ارادات کو پاک کر دیا۔نیک بندے وہ شربت پی رہے ہیںجس کی ملونی کافور ہے وہ اس چشمہ سے پیتے ہیں جس کو وہ آپ ہی چیرتے ہیں۔اور میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ کافور کا لفظ اس واسطے اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے کہ لغت عرب میں کفر دبانے اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے ایسے خلوص سے انقطاع اور رجوع الی اللہ کا پیالہ پیا ہے کہ دنیا کی محبت بالکل ٹھنڈی ہوگئی ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ تمام جذبات دل کے خیال سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور جب دل ان نالائق خیالات سے بہت ہی دور چلا جاوے اور کچھ تعلقات ان سے باقی نہ رہیں تو وہ جذبات بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیںیہاں تک کہ نابود ہوجاتے ہیں۔سو اس جگہ خدا تعالیٰ کی یہی غرض ہے اور وہ اس آیت میں یہی سمجھاتا ہے کہ وہ اس کی طرف کامل طور سے جھک گئے۔وہ نفسانی جذبات سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں اور ایسے خدا کی طرف جھکے کہ دنیا کی سر گرمیوں سے ان کے دل ٹھنڈے ہوگئے اور ان کے