ملفوظات (جلد 8) — Page 260
کچھ اور بھی دو۔کیونکہ اس وقت تمہاری ہمیشہ کے لیے اس سے جدائی لازم ہوتی ہے۔پس لازم ہے کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔توفّی کے معنی قرآن شریف کے ترجمہ کی بابت ذکر ہوا تو فرمایا۔دیکھو! توفّی کے معنے ہمارے مخالف مولوی مرنے کے کرتے ہیں۔لیکن جب مسیح کے بارہ میں یہ لفظ آجاوے تو اس کا اور ہی مطلب بتاتے ہیں کہ آسمان پر مع جسم عنصری کے چڑھ گیا۔حضرت یوسفؑ اور آنحضرتؐکے بارہ میں جب یہ لفظ آجاوے۔تب تو وفات کے معنے وہی موت کئے جاتے ہیں۔افسوس! چاہیے تو تھا کہ اگرمعنے بدلنے ہی ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدلے جاتے۔آسمان پر جانا ناممکن ہے فرمایا۔قرآن شریف تو بتاتا ہے کہ آسمان پر جانا تمہارا ناممکن ہے۔جیسا کہ آنحضرتؐکو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کہہ دے کہ میں ایک بشر رسول ہوں میں آسمان پر کیونکر چلا جاؤں اور پھر قرآن شریف میں ہے مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ(البقرۃ:۳۷)۔معراج کی حقیقت پھر فرمایا کہ مخالف مولوی ہماری مخالفت میں معراج کی حدیث پیش کرتے ہیں حالانکہ حضرت عائشہؓ کا مذہب تھا کہ جو کوئی کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع جسم عنصری آسمان پر گئے وہ آنحضرت پر تہمت لگاتا ہے۔اسی طرح اور ائمہ اور اصحاب کرام کابھی یہی مذہب رہا ہے کہ آنحضرت ایک نورانی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے نہ اس جسم کے ساتھ۔ایسا ہی شاہ ولی اللہ صاحب کا بھی یہی مذہب تھا اور شاہ عبد العزیز بھی یہی لکھتے ہیں کہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر جانا نہیں ہوتا بلکہ ایک اور نورانی جسم ملتا ہے جس سے کہ انسان آسمان پر جاتا ہے۔بندہ کی فضیلت الہام میں نہیں، اعمال صالحہ میں ہے ایک شخص نے تحریر کیا کہ یہاں اَور بہت لوگوں