ملفوظات (جلد 8) — Page 259
فخر و مباہات فرمایاکہ عورتوں میں چند عیب بہت سخت ہیں اور کثرت سے ہیں۔ایک شیخی کرنا کہ ہم ایسے اور ایسے ہیں۔پھر یہ کہ قوم پر فخر کرنا کہ فلاں تو کمینی ذات کی عورت ہے یا فلاں ہم سے نیچی ذات کی ہے۔پھر یہ کہ اگر کوئی غریب عورت ان میں بیٹھی ہوتی ہے تو اس سے نفرت کرتی ہیں اور اس کی طرف اشارہ شروع کر دیتی ہیں کہ کیسے غلیظ کپڑے پہنے ہیں۔زیور اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔خاوند کی اطاعت فرمایا کہ عورت پر اپنے خاوند کی فرمانبرداری فرض ہے۔نبی کریمؐنے فرمایا ہے کہ اگر عورت کو اس کا خاوند کہے کہ یہ ڈھیر اینٹوں کا اٹھا کر وہاں رکھ دے اور جب وہ عورت اس بڑے اینٹوں کے انبار کو دوسری جگہ پر رکھ دے تو پھر اس کا خاوند اس کو کہے کہ پھر اس کو اصل جگہ پر رکھ دے تو اس عورت کو چاہیے کہ چون و چرا ذرا نہ کرے بلکہ اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے۔عورتوں کے حقوق فرمایا کہ عورتیں یہ نہ سمجھیں کہ ان پر کسی قسم کا ظلم کیا گیا ہے کیونکہ مرد پر بھی ان کے بہت سے حقوق رکھے گئے ہیں بلکہ عورتوں کو گویا کہ بالکل کرسی پر بٹھا دیا ہے اور مرد کو کہا ہے کہ ان کی خبر گیری کر۔اس کا تمام کپڑا کھانا اور تمام ضروریات مرد کے ذمہ ہیں۔فرمایا کہ دیکھو! موچی ایک جوتی میں بد دیانتی سے کچھ کا کچھ بھر دیتا ہے صرف اس لیے کہ اس سے کچھ بچ رہے تو جورو بچوں کے پیٹ پالوں۔سپاہی لڑائی میں جا کر سر کٹاتے ہیں صرف اس لیے کہ کسی طرح جورو بچوں کا گذارہ ہو۔فرمایا کہ بڑے بڑے عہدیدار رشوت کے الزام میں پکڑے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔وہ کیا ہوتا ہے؟ عورتوں کے لیے ہوتا ہے۔عورت کہتی ہے کہ مجھ کو زیور چاہیے کپڑا چاہیے۔مجبوراً بیچارے کو کرنا پڑتا ہے۔لیکن خدا نے ایسی طرز وںسے رزق کمانا منع فرمایا ہے۔یہاں تک عورتوں کے حقوق ہیں کہ جب مرد کو کہا گیا ہے کہ ان کو طلاق دو تو مہر کے علاوہ ان کو